تاریخ احمدیت (جلد 2)

by Other Authors

Page 559 of 687

تاریخ احمدیت (جلد 2) — Page 559

تاریخ احمدیت جلد ۲ ۵۲۴ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا آخری سطر لا ہو را حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا آخری سفر لاہور " چشمہ معرفت کی اہم تصنیف اور دوسرے مسلسل علمی و دینی مشاغل کی وجہ سے حضرت مسیح موعود کی صحت پر بہت اثر پڑا تھا۔مزید بر آن حضرت ام المومنین کی طبیعت بھی ان دنوں نا ساز تھی اور ان کی باصرار خواہش تھی کہ لاہور جاکر کسی ماہر لیڈی ڈاکٹر سے علاج کرائیں۔حضور نے حضرت سیده نواب مبارکہ بیگم صاحبہ سے فرمایا کہ مجھے ایک کام در پیش ہے دعا کرو اور اگر کوئی خواب آئے تو مجھے بتانا۔چنانچہ انہوں نے رویا میں دیکھا کہ وہ چوبارہ پر گئی ہیں اور وہاں حضرت مولوی نور الدین صاحب ایک کتاب لئے بیٹھے ہیں اور کہتے ہیں کہ دیکھو اس کتاب میں میرے متعلق حضرت صاحب کے الہامات ہیں اور میں ابو بکر ہوں۔دوسرے دن حضرت سیدہ موصوفہ نے حضور کو یہ خواب سنائی تو حضرت اقدس نے ارشاد فرمایا " یہ خواب اپنی اماں کو نہ سنانا۔" اس خواب کے علاوہ ۲۶ / اپریل ۱۹۰۸ء بوقت چار بجے صبح یعنی تیاری سے صرف ایک روز قبل خود حضرت اقدس علیہ السلام پر الہام بھی ہوا۔مباش ایمن از بازی روزگار" ان آسمانی خبروں کی بناء پر حضور کو احساس ہو چکا تھا کہ اس سفر میں حضور کو سفر آخرت بھی پیش آنے والا ہے اور اسی لئے حضور لا ہور تشریف لے جانے میں بہت متامل تھے۔قادیان سے روانگی لیکن خدائی نقد یہ چونکہ میں تھی النا حضور علیہ السلام ۷ ۱۲ اپریل ۱۹۰۸ء یہی کی صبح کو قادیان سے بٹالہ روانہ ہو گئے۔حضور کے ہمراہ اس سفر میں گیارہ افراد تھے۔روانگی سے قبل حضرت اقدس علیہ السلام نے وہ حجرہ بند کیا جس میں آخری عمر میں حضور تصنیف فرمایا کرتے تھے۔حضور نے یہ حجرہ بند کرتے ہوئے کسی کو مخاطب کرنے کے بغیر فرمایا " اب ہم اس کو نہیں کھولیں گے۔" بٹالہ پہنچے تو خلاف توقع ریز رو گاڑی نہ مل سکی۔حضور اقدس علیہ السلام نے ریزرو گاڑی کے