تاریخ احمدیت (جلد 2)

by Other Authors

Page 550 of 687

تاریخ احمدیت (جلد 2) — Page 550

تاریخ احمدیت۔جلد ۲ ۵۱۵ حضرت مسیح موعود کے مبارک دور کا آخری سالانہ جلسہ - حکیم ڈاکٹر نور محمد صاحب لاہوری مالک کارخانہ ہمدم صحت لاہور۔شیخ عبد الرحیم صاحب نو مسلم (سابق جگت سنگھ )۔۷۔چوہدری فتح محمد صاحب (سیال) طالب علم گورنمنٹ کالج لاہور۔وفد نے گورو ہر سائے میں پہنچ کر ۴ / اپریل ۱۹۰۸ء کو گورو بشن سنگھ صاحب کے ذریعہ سے یہ قرآن شریف کھول کر پڑھا جو دراصل ایک نہایت خوشخط لکھی ہوئی حمایل شریف تھی۔جس کا سائز تخمینا تین انچ چوڑا اور ساڑھے چار انچ لمبا تھا۔ہر صفحہ پر ارد گرد سنہری لکیریں پڑی تھیں اور بعض مقامات پر سنہری بیل تھی گورد بشن سنگھ صاحب نے بتایا کہ پرانے گورو صاحبان سے یہ قرآن شریف بطور تبرک چلا آتا ہے۔ایک سکھ دروان اس وفد کا ذکر کرتے ہوئے لکھتے ہیں ” وفد کے تمام ممبر تعلیم یافتہ تھے۔قرآن ان کے نوک زبان تھا۔پو تھی دیکھ کر اسے قرآن کہنے میں انہیں کوئی مغالطہ نہیں لگا۔" 140 وند نے واپس آکر جب قرآن شریف کے موجود ہندو اور سکھ اصحاب پر اتمام حجت ہونے کی تصدیق کر دی تو حضور علیہ السلام نے چشمہ معرفت " میں یہ تمام تفصیلات درج فرما کر لکھا کہ ” بادا ناتک صاحب" کا وجود تمام ہندوؤں پر خدا تعالی کی ایک حجت ہے خاص کر سکھوں پر جو ان کے پیرو کہلاتے ہیں۔خدا نے آریوں میں سے ایک ایسا مقدس شخص پیدا کیا کہ وہ گواہی دیتا ہے کہ اسلام سچا ہے اور جو تکذیب کرتے ہیں وہ ان کے منہ پر تھوکتے ہیں۔پس اے وہ تمام لوگو! جو اس مقدس گرد کے سکھ ہو خدا سے ڈرو! صرف میں ہی تم کو ملزم نہیں کرتا بلکہ وہ مقدس بزرگ بھی تم کو ملزم کر رہا ہے جس کی پیروی کا تم کو دعوئی ہے۔اگر تم اس مقدس گرد کے بچے سکھ ہو تو ہندوؤں کا تعلق چھوڑ دو جیسا کہ اس نے چھوڑ دیا تھا۔اور اس پاک مذہب کی روشنی سے تم بھی نور حاصل کرو جس کے نور سے وہ بزرگ سر تاپا روشن ہو گیا تھا۔" نکاح حضرت سیده مبارکه بیگم صاحبہ مدظلها T ۱۷ فروری ۱۹۰۸ء کو حضرت سیدہ مبارکہ بیگم صاحبہ کا نکاح حجتہ اللہ حضرت نواب محمد علی خاں صاحب رکھیں مالیر کوٹلہ سے چھپن ہزار روپیہ صریر مسجد اقصیٰ میں ہوا۔خطبہ نکاح حضرت حکیم الامت مولوی نور الدین صاحب نے پڑھا۔نواب صاحب موصوف کے خاندان میں حق مہر کے متعلق یہ دستور تھا کہ کئی کئی لاکھ روپیہ مقرر کیا جاتا تھا اور انہوں نے اپنی خاندانی رسم کی وجہ سے اب بھی یہی کہا تھا کہ مہر زیادہ رکھا جائے مگر حضرت اقدس علیہ السلام نے اسے پسند نہ فرمایا۔البتہ مر کے متعلق