تاریخ احمدیت (جلد 2)

by Other Authors

Page 533 of 687

تاریخ احمدیت (جلد 2) — Page 533

تاریخ احمدیت۔جلد ۲ ۴۹۸ ”وقف زندگی کی پہلی منتظم تحریک ملکی شورش میں جماعت کو نصیحت احمدیت کا پیغام اب تک محض خدا تعالٰی کے خاص تصرفات اور حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام کی کتب وغیرہ سے پہنچ رہا تھا۔واعظین کا کوئی باقاعدہ نظام اس غرض کے ئے موجود نہیں تھا۔لیکن اب چونکہ سلسلہ کا کام بہت بڑھ چکا تھا اور ایک تنظیم کے ساتھ اندرون ملک اور بیرونی دنیا کو حق پہنچانے کی ضرورت شدت محسوس ہو رہی تھی اس لئے حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام نے ستمبر ۱۹۰۷ء میں جماعت کے سامنے ”وقف زندگی " کی پر زور تحریک فرمائی۔ابتدائی واقفین زندگی اس تحریک پر قادیان میں مقیم نوجوانوں کے علاوہ بعض اور دوستوں نے بھی زندگی وقف کرنے کی درخواستیں حضور کی خدمت میں پیش کیں۔حضرت اقدس کی ڈاک کی خدمت ان دنوں حضرت مفتی محمد صادق صاحب کے سپرد تھی اس لئے حضرت اقدس نے مفتی صاحب ہی کو ہدایت فرمائی کہ ایسے واقفین کی فہرست بنا ئیں چنانچہ انہوں نے اس غرض کے لئے ایک رجسٹر کھول دیا۔ابتداء جن اصحاب نے زندگی وقف کی ان کے نام یہ ہیں۔شیخ محمد تیمور صاحب طالب علم علی گڑھ کالج ( ان کی درخواست پر حضور نے لکھا ” بعد پورا کرنے تعلیم بی۔اے اس کام پر لگیں " ۲۔چوہدری فتح محمد صاحب سیال (ان کی درخواست پر حضور نے تحریر فرمایا منظور ) ۳- مولانا سید محمد سرور شاہ صاحب (ان کی درخواست پر حضور نے لکھا " آپ کو اس کام کے لائق سمجھتا ہوں ) ۴۔میاں محمد حسن صاحب دفتر رساله ریویو آف ریلیجنز ان کی درخواست پر حضور نے لکھا ” قبول ہے ) ۵۔مفتی محمد صادق صاحب ایڈیٹر اخبار بدر ( حضور نے ان کی درخواست پر تحریر فرمایا " منظور ۶۔صوفی غلام محمد صاحب طالب علم بی۔اے (حضور نے ان کی درخواست پر لکھا بی۔اے کا نتیجہ نکلنے کے بعد اس کام کے واسطے طیار ہو جائیں " ے۔مولوی محمد دین صاحب طالب علم علی گڑھ کالج ( ان کی درخواست پر حضور نے لکھا ” نتیجہ کے بعد اس خدمت پر لگ جائیں۔شیخ عبدالرحمن صاحب طالب علم مدرسہ احمدیہ ( ان کی درخواست پر حضور نے لکھا سلسلہ کی پوری واقفیت پیدا کرلیں) ۹ - اکبر شاہ خان صاحب نائب سپرنٹنڈنٹ بورڈنگ ہاؤس تعلیم الاسلام ہائی سکول ( ان کی درخواست پر حضور نے لکھا ” وقت پر آپ کو یاد کیا جائے گا") ۱۰ مولوی عظیم اللہ صاحب ساکن نامجہ (ان کی درخواست پر حضور نے تحریر فرمایا "وقت پر آپ کو یاد کیا جائے گا۔مولوی فضل دین صاحب -۱۲ خواجہ عبد الرحمن صاحب ۱۳۔قاضی محمد درسه