تاریخ احمدیت (جلد 2) — Page 521
تاریخ احمدیت جلد ۲ ۴۸۶ طاعون کا اشد معاندین پر حملہ اور ان کی ہلاکت علاج بھی ہے۔اس طرف سے بذریعہ تار جواب آیا کہ اب اس کا کوئی علاج نہیں۔مگر اس غریب اور بے وطن لڑکے کے لئے میرے دل میں بہت توجہ پیدا ہو گئی اور میرے دوستوں نے بھی اس کے لئے دعا کرنے کے لئے بہت ہی اصرار کیا۔کیوں کہ اس غربت کی حالت میں وہ لڑکا قابل رحم تھا اور نیز دل میں یہ خوف پیدا ہوا کہ اگر وہ مرگیا تو ایک برے رنگ میں اس کی موت شماتت اعداء ہو گی۔تب میرا دل اس کے لئے سخت درد اور بے قراری میں مبتلا ہوا اور خارق عادت توجہ پیدا ہوئی جو اپنے اختیار سے پیدا نہیں ہوتی بلکہ محض خدا تعالی کی طرف سے پیدا ہوتی ہے۔اور اگر پیدا ہو جائے تو خدا تعالی کے اذن سے وہ اثر دکھاتی ہے کہ قریب ہے کہ اس سے مردہ زندہ ہو جائے۔غرض اس کے لئے اقبال علی اللہ کی حالت میسر آ گئی۔اور جب وہ توجہ انتہاء تک پہنچ گئی اور درد نے اپنا پورا تسلط میرے دل پر کر لیا تب اس بیمار پر جو در حقیقت مردہ تھا اس توجہ کے آثار ظاہر ہونے شروع ہو گئے۔اور یا تو وہ پانی سے ڈرتا اور روشنی سے بھاگتا تھا اور یا یک دفعہ طبیعت نے صحت کی طرف رخ کیا اور اس نے کہا کہ اب مجھے پانی سے ڈر نہیں آتا۔تب اس کو پانی دیا گیا تو اس نے بغیر کسی خوف کے پی لیا بلکہ پانی سے وضو کر کے نماز بھی پڑھ لی اور تمام رات سوتا رہا اور خوف ناک اور وحشیانہ حالت جاتی رہی۔یہاں تک که چند روز تک بکلی صحت یاب ہو گیا۔میرے دل میں فی الفور ڈالا گیا کہ یہ دیوانگی کی حالت جو اس میں پیدا ہو گئی تھی یہ اس لئے نہیں تھی کہ وہ دیوانگی اس کو ہلاک کرے بلکہ اس لئے تھی کہ ناخدا کا نشان ظاہر ہو اور تجربہ کار لوگ کہتے ہیں کہ کبھی دنیا میں ایسا دیکھنے میں نہیں آیا کہ ایسی حالت میں کہ جب کسی کو دیوانہ کتے نے کاٹا ہو اور دیوانگی کے آثار ظاہر ہو گئے ہوں پھر کوئی شخص اس حالت سے جانبر ہو سکے۔" مولوی شاء اللہ صاحب کے ساتھ آخری فیصلہ" حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے "انجام آتھم " (مطبوعہ جنوری ۱۸۹۷ء) میں جن علماء کو مباہلہ کی دعوت دی تھی ان میں گیارہواں نمبر مولوی ثناء اللہ صاحب امرتسری کا تھا۔مولوی صاحب اس پہلی دعوت مباہلہ پر خاموش رہے۔البتہ جن دنوں حضور اعجاز احمدی" تصنیف فرما رہے تھے حضور نے ان کی ایک دستخطی تحریر دیکھی جس میں انہوں نے درخواست کی تھی کہ میں اس طور پر کسی فیصلہ کے لئے خواہش مند ہوں کہ فریقین یہ دعا کریں کہ جو شخص ہم دونوں میں سے جھوٹا ہے وہ بچے کی زندگی میں ہی مرجائے۔جس پر حضور نے اس کتاب میں تحریر فرمایا۔اگر اس چیلنج پر وہ مستعد ہوئے کہ کاذب صادق کے پہلے مرجائے تو ضرور وہ پہلے مریں گے۔"