تاریخ احمدیت (جلد 2) — Page 520
تاریخ احمد بیت جلد ۲ ساتھیوں سے جا ملا۔۴۸۵ طاعون کا اشد معاندین پر حملہ اور ان کی ہلاکت ایڈیٹر شجھ چتک" کی آخری تحریر پنڈت سومراج نے ایک دوسرے آریہ اخبار " پر کاش" کے نام ایک چٹھی بطور معذرت لکھی تھی جو ٹھیک اس دن شائع ہوئی جس روز پنڈت سو مراج اس دنیا سے رخصت ہوا۔یہ چٹھی بجائے خود ان مصائب و حوادث کا ایک خاکہ ہے جو پنڈت سو مراج پر وارد ہو ئیں۔چنانچہ اس نے لکھا۔یکا یک مہاشہ اچھر چند کی استری اور عزیز بھگت رام برادر لالہ اچھر چند کالڑکا بیمار ہو گئے۔خیران کی استری کو تو آرام ہو گیا لیکن لڑکا گزر گیا۔اس تکلیف کا ابھی خاتمہ نہیں ہوا تھا کہ میری استری اور میرا چھوٹا لڑکا عزیز شوراج بیمار ہو گئے۔میری استری تو ابھی بہارہی ہے مگر ہو نہار لڑکا پلیگ کا شکار ہو گیا۔اس مصیب کو ابھی بھول نہیں گئے تھے کہ ایک ناگہانی مصیبت اور سر آپڑی۔اور وہ یہ تھی کہ عزیز بھگت رام جس کے لڑکے کے گزر جانے کا اوپر ذکر کیا ہے بیمار ہو گیا اور چھ روز بیمار رہ کر ہمیشہ کے لئے داغ مفارقت دے گیا۔یہی وجہ ہے کہ اب کے ہم گورو کل میں بھی نہیں جاسکے اور اخبار بھی دو ہفتہ سے بند ہے۔اور ابھی اپریل کا کوئی پرچہ نکلنے کی آشا نہیں ہے کیوں کہ لالہ اچھر چند جی تو اول کئی ہفتے اسی صدمے سے کام کرنے کے قابل نہیں رہے۔" احیائے موتی کا بے نظیر نشان گزشتہ سال کی طرح اس سال (۱۹۰۷ء میں) بھی حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی دعا اور توجہ سے احیائے موتی کا ایک بے نظیر نشان ظاہر ہو ا جس نے دنیا کے خصوصی ماہرین امراض کو ورطہ حیرت میں ڈال دیا۔اس نشان کی تفصیل خود حضرت اقدس کے الفاظ میں یہ ہے۔عبد الكريم نام ولد عبد الرحمن ساکن حیدر آباد دکھن ہمارے مدرسہ میں ایک لڑکا طالب العلم ہے قضاء اور قدر سے اس کو سنگ دیوانہ کاٹ گیا۔ہم نے اس کو معالجہ کے لئے کسولی بھیج دیا۔چند روز تک اس کا کسولی میں علاج ہو تا رہا پھر وہ قادیان میں واپس آیا۔تھوڑے دن گزرنے کے بعد پھر اس میں آثار دیوانگی کے ظاہر ہوئے جو دیوانہ کتے کے کاٹنے کے بعد ظاہر ہوا کرتے ہیں اور پانی سے ڈرنے لگا اور خوف ناک حالت پیدا ہو گئی تب اس غریب الوطن عاجز کے لئے میرا دل سخت بے قرار ہوا اور دعا کے لئے ایک خاص توجہ پیدا ہو گئی۔ہر ایک شخص سمجھتا تھا کہ وہ غریب چند گھنٹہ کے بعد مرجائے گا۔ناچار اس کو بورڈنگ سے باہر نکال کر ایک الگ مکان میں دوسروں سے علیحدہ ہر ایک احتیاط سے رکھا گیا اور کسوئی کے انگریز ڈاکٹروں کی طرف تار بھیج دیا اور پوچھا گیا کہ اس حالت میں اس کا کوئی