تاریخ احمدیت (جلد 2)

by Other Authors

Page 517 of 687

تاریخ احمدیت (جلد 2) — Page 517

تاریخ احمد بیت ، جلد ۲ ۴۸۲ طاعون کا اشد معاندین پر حملہ اور ان کی ہلاکت خواجہ کمال الدین صاحب کی گھبراہٹ حقیقتہ الوحی کا یہ حصہ ابھی پریس میں بھی نہیں گیا تھا کہ خواجہ کمال الدین صاحب وکیل گھبرائے اور حضرت اقدس کا بصیرت افروز جواب ہوئے حضور کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا کہ قانونی نقطہ نگاہ سے اس کی اشاعت مناسب نہیں۔حضور نے سعد اللہ کے متعلق ابتر تحریر فرمایا ہے۔حالانکہ ابھی وہ خود زندہ ہے اس کا لڑکا بھی زندہ ہے۔اور حضور نے لکھ دیا ہے کہ وہ لڑکا اس قابل ہی نہیں ہے کہ اس سے آگے نسل چل سکے۔اس پر اگر وہ چاہے تو عدالت میں استغاثہ کر سکتا ہے۔پھر قانون کی سزا سے بچنے کی کوئی صورت نہ ہوگی اور مصائب کا ایک نہ ختم ہونے والا سلسلہ شروع ہو جائے گا اور حکومت ضرور سزا دے گی اس لئے یہ وحی مصلحت پر وہ اختفاء میں رکھی جائے۔حضور نے ایک گونہ خفگی اور ناپسندیدگی کا اظہار کرتے ہوئے فرمایا خواجہ صاحب آپ کوئی فکر نہ کریں اگر مقدمہ ہمارے خلاف چل بھی گیا تو ہم آپ کو وکیل نہیں کریں گے۔نیز فرمایا کہ میرے نزدیک تو صحیح راہ یہی ہے کہ الہام کی تعظیم مقدم ہے اور اس کا اخفاء اللہ تعالی کی معصیت اور کمینگی !! یاد رکھو خدا تعالیٰ کے سوا کوئی بھی ضرر نہیں پہنچا سکتا اور اللہ کے حکم کے بعد مجھے حکام کے عتاب کی قطعاً پروا نہیں ہے۔ہم جناب الٹی میں (جو ہر فضل کا سرچشمہ ہے) دعا کریں گے۔اور اگر قضاء و قدر میں ہمارے لئے مصیبت لکھی ہے تو ہم اسی ذلت کی زندگی پر ہی راضی ہیں مگر خدا کی قسم وہ اس شریر کو مجھ پر ہرگز مسلط نہیں کرے گا۔اس پر خدا کی آفت نازل ہوگی اور میں جو اس کی پناہ کا طالب ہوں محفوظ رہوں گا۔اس واقعہ کے بعد حضور نے تین روز تک سعد اللہ کی موت کے لئے دعائیں کیں جس پر حضور پر وحی نازل ہوئی کہ رُبَّ اشْعَثَ اغْبَرَ لَوْ ا قسَمَ عَلَى اللهِ لا بد یعنی بعض لوگ جو عوام کی نگاہ میں پراگندہ مو اور غبار آلود ہوتے ہیں جناب ابھی میں وہ مقام رکھتے ہیں کہ اگر وہ کسی بات پر قسم کھا جا ئیں تو اللہ تعالیٰ ان کی قسم ضرور پوری کر دیتا ہے۔سعد اللہ کی ابتر موت حضور کی بددعا اور اس الہام پر ابھی صرف چند راتیں ہی گزریں تھی کہ سعد اللہ کو جنوری ۷ ۱۹۰ ء کے پہلے ہفتہ میں پلیگ ہوا۔اور وہ ہزار حسرتوں کے ساتھ اس جہاں سے چل بسا۔اس کے لڑکے کی نسبت حاجی عبدالرحیم کی دختر سے ہو چکی تھی اور عنقریب شادی ہونے والی تھی مگر اسے یہ بھی نصیب نہ ہوا کہ اپنے اکلوتے لڑکے کی شادی دیکھ لیتا۔سعد اللہ کی موت کے بعد اس کے بیٹے نے گو شادی کرلی مگر لمبا عرصہ زندہ رہنے کے باوجود تمام عمر لا ولد رہ کر ۱۲ جولائی ۱۹۲۶ء کو موضع کرم کلاں (ضلع لدھیانہ) میں فوت ہوگیا اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی