تاریخ احمدیت (جلد 2)

by Other Authors

Page 412 of 687

تاریخ احمدیت (جلد 2) — Page 412

تاریخ احمدیت جلد ۲ ۴۰۹ مدرسہ احمدیہ کی بنیاد (مرتبہ عرفانی صاحب) ۹ - الفرقان (خلافت راشدہ حصہ دوم) حضرت مولوی برہان الدین صاحب کی حضرت مولوی برہان الدین صاحب غالبا، ۱۸۳ء مختصر سوانح حیات اور اخلاص و فدائیت میں پیدا ہوئے۔پچیس سال کی عمر میں دینی تعلیم کے حصول کے لئے دہلی تشریف لے گئے اور سید نذیر حسین صاحب دہلوی سے علم حدیث حاصل کیا۔قریباً ۱۸۶۵ء میں وطن آکر اہلحدیث تحریک کے پر جوش علم بردار کی حیثیت سے اس مسلک کی اشاعت شروع کردی اور متعدد اہلحدیث جماعتیں قائم کیں۔۱۸۶۷ء سے ۱۸۸۶ء تک مرد حق کی تلاش میں سرگرم عمل رہے اور اس سلسلہ میں پہلے موضع باؤلی شریف کے ایک بزرگ کی شاگردی اختیار کی پھر حضرت مولوی عبد اللہ صاحب غزنوی کی صحبت میں کئی سال گزارے بعد ازاں حضرت پیر کو ٹھہ شریف سے اظہار عقیدت کیا لیکن آپ کو اپنا گوہر مقصود نہ مل سکا۔آخر ۱۸۸۶ء میں آپ ہوشیار پور کے مقام پر حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی خدمت میں حاضر ہوئے۔اور اپنی فراست سے بیعت کے لئے عرض کیا۔حضور نے فرمایا ابھی ت لینے کی اجازت نہیں۔۱۸۹۱ء میں جب مولوی محمد حسین صاحب بٹالوی نے حضور کے دعوئی مسیحیت پر فتویٰ کفر لکھا تو ان کے اصرار پر مولوی صاحب نے ایک مشروط فتویٰ لکھا۔مگر جوں ہی آپ نے حضرت اقدس کی اصل تحریرات مطالعہ کیں تو شرح صدر سے ۲۰ جولائی ۱۸۹۲ء کو حضور کی بیعت کرلی۔مولوی محمد حسین صاحب بٹالوی کو مولوی صاحب کے رجوع کا صاف طور پر علم ہو چکا تھا مگر انہوں نے پھر بھی مولوی صاحب کا فتویٰ شائع کر دیا بلکہ چند ماہ بعد انہیں ۲/ نومبر ۱۸۹۲ء کو ایک خط میں لکھا کہ یہ فتویٰ کا مشروط پہلو اڑا دیں اور صاف اور قطعی لکھیں کہ مرزا صاحب فتاوی علماء کے مطابق واقع میں کافر ہیں۔حضرت مولوی صاحب نے اس خط کے جواب میں ایک مسکت اور مفصل مکتوب لکھا جس کا خلاصہ یہ تھا کہ حضرت مرزا صاحب کی کتابوں سے ہی میں اس نتیجہ پر پہنچا ہوں کہ حضرت اقدس کا دعوی بر حق ہے اور آپ جو چھ ماہ سے ان کے خلاف کمربستہ ہیں تو یہ آپ کی طرف سے محض مغلوب الغضی کا مظاہرہ ہے۔اللہ آپ کو اہل اللہ کے لعن طعن سے بچائے۔بیعت کرنے کے بعد حضرت مولوی صاحب ہر سال قادیان میں تشریف لے جاتے۔حضور فرمایا کرتے کہ مولوی صاحب آپ کے آنے سے مجھے آرام ملتا ہے۔" حضرت اقدس جب سیر کر کے واپس گھر کی طرف آتے تو آپ آگے بڑھ کر حضور کی نعلین مبارک اپنی کندھے والی چادر سے صاف کر دیتے۔مستری نظام الدین صاحب سیالکوئی سنایا کرتے تھے کہ مولوی صاحب کا اخلاص جنون کی حد تک پہنچا ہوا تھا۔چنانچہ ۱۹۰۴ء میں جب حضرت اقدس سیالکوٹ تشریف لے گئے تو مولوی صاحب بھی