تاریخ احمدیت (جلد 2)

by Other Authors

Page 411 of 687

تاریخ احمدیت (جلد 2) — Page 411

جلد ۲ ۴۰۸ مدرسہ احمدیہ کی بنیاد نہیں۔فرمایا " قادیان جو دولت ملتی ہے وہ دنیا کے کسی مقام پر آج نہیں پائی جاتی تیرہ سو برس کے بعد خد اتعالیٰ نے اپنی مرسل کو ہم میں بھیجا اس کی پاک صحبت کو چھوڑ کر سونے چاندی کے سکوں کے لئے نکل جانا مردار دنیا پر منہ مارتا ہے اور اعلیٰ کا ادنیٰ سے تبادلہ ہے۔خدا کی قسم اگر دنیا کی ساری دولت میرے قدموں پر لا کر ڈھیر کر دی جائے اور اس کے بدلہ میں قادیان سے مجھے الگ ہونے کی خواہش کی جاوے تو میں سونے چاندی کے اس ڈھیر پر پیشاب بھی نہ کروں۔" غرض نہایت حقارت کے ساتھ اس آفر کو رد کر دیا۔جیسا کہ مولوی صدرالدین صاحب نے بیان کیا وہ گرمی سے بہت گھبراتے تھے مگر مجھے کہا کرتے تھے۔شیخ صاحب ایہ گرمی روح میں ایک سکینت اور برودت پیدا کرتی ہے حضرت کی صحبت اکسیر ہے اس کے پاس بیٹھ کر کوئی تکلیف اور غم آہی نہیں سکتا۔ہم دنیا والوں کو کس طرح اس کیفیت کے کیف اور مزہ سے آگاہ کریں۔یہ ذرتی بات ہے اور ایمان کے بغیر یہ لذت اور کیف حاصل نہیں ہوتا۔القصہ آپ نے نہ تو اس بیش قرار مشاہرہ کی پرواہ کی اور نہ اس عزت و مرتبہ نے ان کو اپنی طرف کھینچا جو کاہل میں آپ کو میسر آسکتا تھا۔آپ نے اپنے آقاء موٹی کی صحبت کے لئے دنیا کی حکومت اور دولت کو بیچ سمجھا اور قادیان سے نہ نکلے اور آئے تو پھر مر کر بھی یہاں ہی رہے۔اللہ تعالٰی آپ کے مدارج اور مراتب میں لا انتہا تر قی فرمائے آمین۔" (الحکم ۱۴ اگست ۱۹۲۳ء صفحه ۳) یہ تو حضرت مولوی عبد الکریم صاحب کے عشق و فدائیت کا عالم تھا۔دوسری طرف حضرت مسیح موعود نے ان کی بیماری کے دوران میں علاج اور توجہ میں جو نمونہ قائم کیا وہ انبیاء علیہم السلام کی ذات میں تو نظر آتا ہے لیکن کسی اور انسان میں دکھائی نہیں دیتا صبح و شام آپ مولوی صاحب کے لئے دعاؤں میں گویا وقف تھے۔ہر لحہ حضور کی توجہ مولوی صاحب کی طرف رہتی۔مولوی صاحب کا حال دریافت فرماتے جس چیز کے کھانے کی خواہش ظاہر کرتے یا جس دوا کی ضرورت ہوتی حضور فورا آدمی بھیج کر لاہو ریا امرتسر سے منگوا دیتے۔حضرت اقدس نے مولوی صاحب کے علاج معالجہ کے لئے بے دریغ روپیہ خرچ کیا اور کوئی ایسی چیز باقی نہ رہ گئی جس کی نسبت خیال ہوا کہ مولوی صاحب کے علاج کے لئے مفید ہو گی ان کے لئے ہم نہ پہنچائی گئی ہو۔حضرت اقدس مولوی صاحب کی تکلیف کو دیکھ نہ سکتے تھے چنانچہ باہر مسجد میں کئی دفعہ فرماتے تھے مولوی صاحب کی ملاقات کو بہت دل چاہتا ہے مگر میں ان کی تکلیف دیکھ نہیں سکتا۔چنانچہ آخر مولوی صاحب اس مرض میں فوت ہو گئے مگر حضور ان کے پاس تشریف نہ لے جاسکے۔حضرت مولوی عبد الکریم صاحب کی تالیفات یہ ہیں۔۱۔لیکچر گناہ ۲۔لیکچر ( حضرت مسیح تالیفات موعود نے کیا اصلاح و تجدید کی) ۳۔سیرت مسیح موعود ۴۔اثبات خلافت شیخین ۵- خلافت راشده (حصہ اول)۶ - القول النصیح فی اثبات حقیقتہ المسیح ۷۔دعوۃ الند ده ۸۔خطبات کر یہ