تاریخ احمدیت (جلد 2) — Page 404
تاریخ احمدیت جلد ۲ ۴۰۱ مدرسہ احمدیہ کی بنیاد رہائش اختیار کرلی جو مسجد مبارک کے اوپر کے صحن کے ساتھ ملحق ہے۔اس مکان کے نیچے خود حضرت صاحب کا رہائشی کمرہ تھا۔یہاں پانچ وقت کی نماز اور جمعہ کی نماز کی امامت آپ ہی کے سپرد ہوئی جس کے فرائض آپ عمر بھر سر انجام دیتے رہے۔آپ پہلے نیچری خیالات رکھتے تھے مگر حضرت اقدس کے فیض صحبت نے آپ کے نظریات کو یکسر پلٹ کر جلد ہی زبر دست عاشقانہ رنگ پیدا کر دیا تھا اور وہ قومی اور قلمی جہاد کے میدان کے لئے ایک جرنیل بن گئے اور آخر وقت تک وہ اس خدمت میں مصروف عمل رہے۔چنانچہ حضرت مسیح موعود نے آپ کی وفات پر اس زبر دست تبدیلی کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا۔” وہ اس سلسلہ کی محبت میں بالکل محو تھے۔جب اوائل میں میرے پاس آئے تھے تو سید احمد کے معتقد تھے۔کبھی کبھی ایسے مسائل پر میری ان کی گفتگو ہوتی جو سید احمد کے غلط عقائد میں تھے۔اور بعض دفعہ بحث کے رنگ تک نوبت پہنچ جاتی مگر تھوڑی ہی مدت کے بعد ایک دن علانیہ کہا کہ آپ گواہ رہیں آج میں نے سب باتیں چھوڑ دیں۔اس کے بعد وہ ہماری محبت میں ایسے محو ہو گئے تھے کہ اگر ہم دن کو کہتے کہ ستارے ہیں اور رات کو کہتے کہ سورج ہے تو وہ کبھی مخالفت کرنے والے نہ تھے۔ان کو ہمارے ساتھ ایک پورا اتحاد اور پوری موافقت حاصل تھی۔کسی امر میں ہمارے ساتھ خلاف رائے کرنا وہ کفر سمجھتے تھے۔ان کو میرے ساتھ نہایت درجہ کی محبت تھی اور وہ اصحاب الصفہ میں سے ہو گئے تھے جن کی تعریف خدا تعالٰی نے پہلے سے ہی اپنی وحی میں کی تھی۔ان کی عمر ایک معصومیت کے رنگ میں گزری تھی اور دنیا کی عیش کا کوئی حصہ انہوں نے نہیں لیا تھا۔نوکری بھی انہوں نے اسی واسطے چھوڑی تھی کہ اس میں دین کی ہتک ہوتی ہے۔پچھلے دنوں ان کو ایک نوکری دو سو روپے ماہوار کی ملتی تھی مگر انہوں نے صاف انکار کر دیا۔خاکساری کے ساتھ انہوں نے اپنی زندگی گزار دی۔صرف عربی کتابوں کے دیکھنے کا شوق رکھتے تھے۔اسلام پر جو اندرونی بیرونی حملے ہوتے تھے ان کے دفاع میں اپنی عمر بسر کر دی باوجود اس قدر بیماری اور ضعف کے ہمیشہ ان کی قلم چلتی رہتی تھی۔ان کے متعلق ایک خاص الہام بھی تھا۔مسلمانوں کا لیڈر میں جانتا ہوں کہ ان کا خاتمہ قابل رشک ہوا کیوں کہ ان کے ساتھ دنیا کی ملونی نہ تھی " زیا بیطس کا حملہ آپ کی شبانہ روز قلمی وعلمی مصروفیات کا نتیجہ تھا کہ زلزلہ کانگڑہ سے قبل آپ کو کثرت پیشاب کا شدید عارضہ ہو گیا۔حضرت مسیح موعود کی دعا کی برکت سے افاقہ ہوا ہی تھا کہ ۱۲۔اگست ۱۹۰۵ء کو آپ کی پشت پر دونوں کندھوں کے درمیان ایک چھوٹی سے پھنسی نمودار ہوئی جو پہلے معمولی سمجھی گئی مگر بعد میں اس نے یکا یک خطر ناک صورت اختیار کرلی۔ابتد اور اس میں کار بنگل (CARBUNCLE) کی علامات پوری پوری نہ پائی جاتی تھیں مگر چند روز بعد وہ