تاریخ احمدیت (جلد 2) — Page 403
تاریخ احمدیت جلد ۲ ۴۰۰ مدرسہ احمدیہ کی بنیاد موت پر حد سے زیادہ غم کرنا ایک قسم کی مخلوق کی عبادت ہے۔کیوں کہ جس سے حد سے زیادہ محبت کی جاتی ہے یا حد سے زیادہ اس کی جدائی کا غم کیا جاتا ہے وہ معبود کے حکم میں ہو جاتا ہے۔خداتعالی ایک کو بلا لیتا ہے دوسرا قائم مقام اس کے کر دیتا ہے قادر اور بے نیاز ہے۔" چنانچہ ایسا ہی ہوا۔ان کی وفات سے جو جگہ خالی ہوئی تھی اسے پر کرنے کے لئے اللہ تعالٰی نے حضرت حافظ روشن علی صاحب کو کھڑا کر دیا۔حضرت مولوی عبد الکریم صاحب کے مختصر سوانح آپ ۱۸۵۸ء میں بمقام سیالکوٹ پیدا ہوئے۔آپ کا پیدائشی نام کریم بخش تھا جسے بعد کو حضرت مسیح موعود نے عبد الکریم میں تبدیل کر دیا۔ابتدائی تعلیم اس زمانہ کے دستور کے مطابق مسجد کے مکتب میں پائی اور قرآن مجید اور فارسی کی ابتدائی کتابیں پڑھیں اور پرائیوٹ طور پر ہی عربی اور فارسی علوم کا مطالعہ کر کے ان میں یہاں تک دسترس حاصل کی کہ امریکن مشن سیالکوٹ میں فارسی کے استاد مقرر کئے گئے۔ایک روز آپ مشنری کلاس کو فارسی پڑھا رہے تھے کہ کسی طالب علم نے قرآن شریف کے متعلق کوئی گستاخی کا کلمہ کہا۔حضرت مولوی صاحب یہ دیکھ کر جوش میں آگئے اور غیرت ایمانی کا مظاہرہ کیا چنانچہ اسی بات پر آپ کو سکول سے موقوف کر دیا گیا جس پر آپ نے بورڈ ٹڈل سکول میں ملازمت اختیار کرلی مگر یہاں بھی آپ نے استعفیٰ دے دیا اور پبلک و عظوں کا سلسلہ جاری کر دیا۔سیالکوٹ کے راجہ بازار کا چوک آپ کا لیکچر گاہ تھا۔یہ غالباً ۱۸۸۰ء کی بات ہے۔آپ کی آواز اتنی دلکش اور موثر تھی کہ بعض اوقات ہندو سکھ بھی آپ کی تلاوت قرآنی کو سن کر از خود رفتہ ہو جاتے اور یوں معلوم ہو تا تھا کہ فرشتے آسمان سے اتر کر اللہ تعالیٰ کی حمد کے ترانے گارہے ہیں۔علاقہ بھر میں آپ کا چرچا ہو گیا اور لوگ کثرت سے آپ کے نبادو بھرے وعظ میں شریک ہونے لگے۔جو سنتا محور ہو جاتا۔آپ بہت جلد اپنی خدادا طاقت سے ایک فصیح و بلیغ اور پر جوش مقرر بن گئے اور عربی، فارسی، انگریزی اور اردو میں آپ کو اتنی مہارت حاصل ہو گئی کہ ان زبانوں کے عالم بھی آپ کو داد فصاحت دینے لگے۔آپ کی تقاریر سے عیسائی مشن تھرا گیا اور انہوں نے ہر چند کوشش کی کہ انہیں اپنی ملازمت میں دوبارہ لے سکیں مگر کامیابی نہ ہوئی۔ایک عرصہ سے آپ کو حضرت مولوی نور الدین صاحب سے گہرا تعلق رہا بلکہ آپ ایک دفعہ مسلسل چھ ماہ تک کشمیر میں ان کی خدمت میں حاضر رہے۔یہ تعلق مولوی عبد الکریم صاحب کو بالا خر حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے دامن سے وابستہ کرنے کا موجب بنا۔مارچ ۱۸۸۸ ء میں حضور سے شرف ملاقات حاصل کیا۔ستمبر ۱۸۹۸ء میں آپ مستقل ہجرت کر کے قادیان آپسے اور حضور کے مکان کے اس حصہ میں