تاریخ احمدیت (جلد 2)

by Other Authors

Page 22 of 687

تاریخ احمدیت (جلد 2) — Page 22

تاریخ احمدیت۔جلد ۲ ۲۲ مدرسہ تعلیم الاسلام کا قیام حواشی "الفضل "۲۵- اگست ۱۹۳۵ء صفحه ۵ کالم ۲۴۶ ملفوظات سید نا حضرت خلیفہ المسیح الثانی ایه الله علی بنصرہ العزیز) رسالہ تعلیم الاسلام جلد اول نمبر صفحه ۲۳۰ تا۲۳۲ و تبلیغ رسالت جلد ششم (بار اول) صفحه ۱۵۳ تا۱۵۵ ملفوظات جلد اول صفحه ۲۸ (بار اول) -۴ تبلیغ رسالت جلد ہفتم صفحه ا ۵ رسالہ تعلیم الاسلام" جلد اول صفحہ ۳۳۳٬۳۳۲ رسالہ تعلیم الاسلام جلد اول صفحه ۲۳۶٬۲۳۳ الحکم ۱۰/ دسمبر ۱۹۰۵ صفحه ۲ - رسالہ تعلیم الاسلام جلد اول صفحہ ۲۴۹۔یہ وہی جگہ ہے جہاں اب مدرسہ احمدیہ قادیان کی عمارت ہے۔رسالہ تعلیم الاسلام و سمبر ۱۹۰۶ء صفحه ۲۴۹ -4 پو رپورٹ صدر انجمن احمدیہ صفحہ ۷۴۔(اکتوبر ۱۹۱۱ء تا ستمبر ۱۹۱۲ء) اخبار "بدر ۲۷ جون ۱۹۱۲ء صفحه ۴-۵ -۱۲ رپورٹ صدر انجمن احمدیه " ربوه ۴۸ ۱۹۴۷ صفحه ۱۴ رپورٹ صدر انجمن احمدیه ۵۳ - ۱۹۵۱ء صفحه ۴۳ رسالہ تعلیم الاسلام و کمبر ۱۹۰۶ء صفحه ۲۴۲ حضرت حافظ صاحب ناگپور کے رہنے والے تھے۔کئی برس تک مکہ معظمہ میں مقیم رہے اور وہیں شادی کی۔۱۸۹۳ء میں قادیان آئے اور الدار میں رہائش اختیار کی۔آپ کئی مرتبہ حج سے مشرف ہوئے۔ایک حج آپ نے حضرت سیدۃ النساء ام المومنین کے خرچ پر سیدنا حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی طرف سے بھی کیا۔حضرت خلیفتہ المسیح الثانی ایدہ اللہ تعالی نے بچپن میں انسی سے قرآن شریف پڑھا تھا۔حافظ صاحب فرماتے تھے کہ ختم قرآن کی تقریب پر حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام نے مجھے ڈیڑھ سوروپے دیئے اور میری تحریک پر "محمود کی آمین" لکھی۔۱۵- کتوبر ۱۹۳۶ء بروز جمعہ 20 سال کی عمر میں وصال ہوا۔(اخبار الفضل ۳۶/ اکتوبر ۱۹۴۶ء صفحه ۶ کالم -۲) حضرت اقدس کے جلیل القدر صحابی تھے ۱۸۹۴ء میں بیعت کی ۶۷ سال کی عمر میں ۲۵ جون ۱۹۴۴ء کو انتقال ہوا۔حضرت مسیح پاک کی جذب و تاثیر کا ذکر کر کے فرمایا کرتے تھے۔ہم جب حضور کے روئے انور کو دیکھتے تو ہمیں معلوم ہو تا کہ جنت میں ہیں آپ کے چہرہ منور کو دیکھتے ہوئے سب غم دور ہو جاتے۔( الحکم ۲۸/ نومبر ۱۹۴۰ء صفحہ ۴ کالم ۲) بانی علیہ عجائب گھر تاریان - ستمبر ۱۹۰۵ء میں داخل سلسلہ ہوئے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام اور حضور کے خاندان سے آپ کو بڑی عقیدت تھی۔حکیم مبارک احمد خان صاحب ایمن آبادی آپ ہی کے فرزند ہیں۔۳۰ جنوری ۱۹۴۶ء کو عمر ۱۶ سال انتقال فرمایا اور بہشتی مقبرہ میں دفن ہوئے۔اصل وطن بو بک ضلع سیالکوٹ۔حضرت قاضی صاحب بڑی خوبی اور مسلمہ قابلیت کے نوجوان تھے۔آپ اکثر اپنا جو ہر قابلیت و علمیت رسالہ ریویو آف ریلیجز کے ذریعہ سے ظاہر کرتے رہتے تھے جس سے آپ کے علم کا سکہ اہل زبان پر بیٹھ گیا انگریزی ترجمته القرآن" کے پہلے پارہ کا ترجمہ آپ نے انتہائی قابلیت اور تیز رفتاری سے کیا جس پر حضرت خلیفتہ اصبیع الثانی ایدہ اللہ تعالٰی نے بھی خوشنودی کا اظہار فرمایا۔آپ کا انتقال ۱۲۔اگست ۱۹۱۶ء کو ہوا۔آخری آرام گاہ بہشتی مقبرہ قادیان ہے۔آپ کی وفات کے متعلق حضرت خلیفتہ المسیح الثانی ایدہ اللہ تعالی کو قبل از وقت بذریعہ رویا اطلاع دی گئی تھی (الفضل ۱۵۔اگست ۱۹۱۹ء صفحہ ۱۸ ۳۰ مارچ ۱۹۰۲ء کو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی بیعت کی۔۱۹۰۴ء سے ۱۹۲۸ء تک مدرسہ تعلیم الاسلام میں تعلیمی فرائض سرانجام دینے کی توفیق علی (روایات صحابہ جلد اصفحہ ۱۸)