تاریخ احمدیت (جلد 2)

by Other Authors

Page 340 of 687

تاریخ احمدیت (جلد 2) — Page 340

تاریخ احمدیت جلد ۲ کامل میں حضرت سید عبد اللطیف صاحب کی درد ناک شہادت شہید مرحوم کی قبر معدوم کرا دی تھی اس طرح امیر امان اللہ خاں نے اس کی قبر کا نام و نشان مٹا دیا۔سردار نصر اللہ خاں کا نوجواں لڑکا قتل ہوا اور اس کی لڑکی عالیہ بیگم سے امیر امان اللہ خاں نے خفیہ نکاح کیا مگر بوقت معزولی اسے طلاق دے دی گویا اس کی آخری یادگار لڑکی کا انجام بھی خراب ہوا۔امیر حبیب اللہ خاں کا حشر بھی نہایت عبرتناک ہو ا یعنی اسے ۲۰/ فروری ۱۹۱۹ء کو چھٹا قهری نشان نامہ کسی نا معلوم می نس نے پستول سے اڑا دیا۔اور جس طرح اس نے حضرت شہید مرحوم کے جسد اطہر پر سنگ باری کی تھی ٹھیک اسی طرح علاقہ شنوار کے باغیوں نے جلال آباد پر حملہ کر کے اس کی قبر پر پتھروں کی بارش کی اور مرنے کے بعد رجم کیا۔امیر حبیب اللہ خاں کے حکم سے حضرت شہید کے دو نوجوان فرزند حضرت محمد سعید جان اور حضرت محمد عمر جان جیل فیور سے شہید ہو گئے۔خدا تعالٰی نے امیر حبیب اللہ خاں سے اس کا یوں انتقام لیا کہ خود اس کا جوان بیٹا سردار حیات اللہ خاں پھانسی چڑھا۔کتاب ” زوال غازی " کا مصنف لکھتا ہے بچہ ستاؤ نے خفیہ ہی خفیہ اسے پھانسی دے کر ارک کی ایک دیوار کے نیچے دبادیا"۔غرضکہ کابل کے عوام سے لے کر امیر حبیب اللہ خان تک خدائے قہار کی قاہرانہ تجلیوں کا شکار ہوئے اور بالاخر ۱۹۲۹ء میں اس کی پاداش میں ایسا انقلاب آیا کہ بچہ سقہ جیسے ایک ادنی شخص نے حکومت افغانستان کا تختہ الٹ دیا اور امیر حبیب اللہ خان کے خاندان سے حکومت چھن گئی اور اس کے آخری تاجدار امیر امان اللہ خاں کو ملک سے بھاگ کر اٹلی میں پناہ لینا پڑی۔تذكرة الشہادتین" کی تصنیف و اشاعت حضرت سید عبد اللطیف صاحب شہید کا دل ہلا دینے والا حادثہ شہادت جماعت احمدیہ کی تاریخ میں نہایت درجہ اہمیت رکھنے والا اور ناقابل فراموش حادثہ تھا۔لہذا حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام نے دنیا کے سامنے اس کی تفصیلات بتانے اور جماعت کو حضرت سید عبد اللطیف صاحب شہید اور حضرت مولوی عبد الرحمن شہید کا اسوہ حسنہ تا قیامت پیش نظر رکھنے کی تحریک کرنے کے لئے "تذکرۃ اشہادتین " تصنیف فرمائی جو اکتوبر ۱۹۰۳ ء میں شائع ہوئی۔حضرت اقدس کا ارادہ تھا کہ یہ کتاب ۱۶/ اکتوبر ۱۹۰۳ء کو تألیف کر کے گورداسپور لے جائیں جہاں حضور پر فوجداری مقدمہ دائر تھا۔لیکن ایسا اتفاق ہوا کہ آپ کو سخت درد گردہ شروع ہو گیا۔حضور کو خیال ہوا کہ یہ کام نا تمام رہ گیا۔صرف د چار دن ہیں۔اگر میں اسی طرح درد گردہ میں مبتلا رہا جو ایک مہلک بیماری ہے تو یہ تالیف نہیں ہو سکے گی۔تب خدا تعالیٰ نے آپ کو دعا کی طرف توجہ دلائی۔حضور نے رات کے وقت تین بجے کے قریب