تاریخ احمدیت (جلد 2) — Page 329
تاریخ احمدیت جلد ۲ ۳۲۶ کابل میں حضرت سید عبد اللطیف صاحب کی درد ناک شہادت ارتکاب کیا گیا۔اے بد قسمت زمین ! تو خدا کی نظر سے گر گئی کہ تو اس ظلم عظیم کی جگہ ہے۔" عبد الاحد خاں صاحب کابلی سانحہ شہادت کے بعد ایک عجیب آسمانی نشان کا ظہور مرحوم و رویش قادیان اکثر سنایا کرتے تھے کہ جب حضرت صاحبزادہ سید عبد اللطیف صاحب کو سنگسار کر کے شہید کر دیا گیا تو اس دن میرے بڑے بھائی کی ڈیوٹی دوسرے کئی سپاہیوں کے ہمراہ حضرت شہید مرحوم کی نعش کی حفاظت پر لگی ہوئی تھی۔ایک وسیع میدان میں حضرت صاجزادہ صاحب کو سنگسار کیا گیا تھا۔اس دن شام کے بعد سخت بارش ہونے لگی اور شدید آندھی آگئی۔تمام سپاہی میدان چھوڑ کر قریبی بر آمدے میں چلے گئے بر آمدے کے اندر اسی وقت دوسرے سپاہیوں کے ہمراہ میرے بڑے بھائی صاحب نے بھی یہ نظارہ دیکھا کہ ایک بجلی کا ستون حضرت شہید مرحوم کے سر کے اوپر کے پتھر کے ڈھیر سے نکلا ہے اور آسمان کی طرف اونچا ہونا شروع ہوا۔اور اسی طرح کا ایک بجلی کاستون آسمان کی طرف سے حضرت شہید مرحوم کے سر پر اترنا شروع ہوا۔آخر زمین اور آسمان کے درمیان یہ دونوں بجلی کے ستون مل گئے۔گویا کہ زمین سے آسمان تک بجلی کا ایک بہت بڑا ستون تیار ہو گیا اور اس وقت بہت زیادہ روشنی پھیل گئی۔یہ نظارہ تھوڑی دیر رہا مگر اس سے وہاں موجود تمام سپاہیوں کے دل سہم گئے اور وہ بہت ڈر گئے اور کہنے لگ گئے کہ سنگسار کیا جانے والا تو کوئی ولی اللہ اور بزرگ معلوم ہوتا ہے۔" F+ حضرت سید عبد اللطیف صاحب شهید اخبار "وطن" میں اس دردناک واقعہ کی خبر کے درد ناک واقعہ کی خبر اخبار "وطن" لاہور (۲۸/ اگست ۱۹۰۳ء) نے بایں الفاظ شائع کی۔" ایک احمدی کا قتل" علاقه خوست واقعہ سلطنت افغانستان میں ایک معزز خاندان صاحبزادگان کا رہتا ہے جو داتا گنج بخش صاحب کی اولاد میں سے ہیں جن کی زمین ضلع بنوں میں متصل سرائے نورنگ واقع ہے۔ان کا ایک بزرگ ابتدائے حکومت امیر عبدالرحمن خاں صاحب مرحوم سے خوست میں رہتا ہے جس کو امیر صاحب سے پنشن ملا کرتی ہے۔چنانچہ صاجزادہ مولوی عبد اللطیف صاحب جو ہندوستان سے دینی تعلیم پاکر عرصہ سے یہاں آئے ہوئے تھے۔اور وہ امیر صاحب کی طرف سے اول حد بندی میں شامل تھے اور ایک ہزار روپیہ آپ کو پنشن ملتی تھی اور خاص کابل میں امیر صاحب نے ان کو ایک جید عالم ہونے