تاریخ احمدیت (جلد 2)

by Other Authors

Page 321 of 687

تاریخ احمدیت (جلد 2) — Page 321

تاریخ احمدیت جلد ۲ ۳۱۸ کامل میں حضرت سید عبد اللطیف صاحب کی درد ناک شہادت چوہیں سیر انگریزی کا ہوتا ہے۔گردن سے کمر تک گھیر لیتا ہے۔اور اس میں ہتھکڑی بھی شامل ہے۔اور نیز حکم دیا کہ پاؤں میں بیڑی وزنی آٹھ مسیر انگریزی کی لگا دو۔پھر اس کے بعد مولوی صاحب مرحوم چار مہینہ قید میں رہے اور اس عرصہ میں کئی دفعہ ان کو امیر کی طرف سے فہمائش ہوئی۔اگر تم اس خیال سے توبه کرد که قادیانی در حقیقت مسیح موعود ہے تمہیں رہائی دی جائے گی۔مگر ہر ایک مرتبہ انہوں نے یہی جواب دیا کہ میں صاحب علم ہوں اور حق اور باطل کی شناخت کرنے کی خدا نے مجھے قوت عطا کی ہے۔میں نے پوری تحقیق سے معلوم کر لیا ہے کہ یہ شخص در حقیقت مسیح موعود ہے۔اگر چہ میں جانتا ہوں کہ میرے اس پہلو کے اختیار کرنے میں میری جان کی خیر نہیں ہے اور میرے اہل وعیال کی بربادی ہے مگر میں اس وقت اپنے ایمان کو اپنی جان اور ہر ایک دنیوی راحت پر مقدم سمجھتا ہوں۔شہید مرحوم نے نہ ایک دفعہ بلکہ قید ہونے کی حالت میں بارہا یہی جواب دیا اور یہ قید انگریزی قید کی طرح نہیں تھی جس میں انسانی کمزوری کا کچھ کچھ لحاظ رکھا جاتا ہے بلکہ ایک سخت قید تھی جس کو انسان موت سے بد تر سمجھتا ہے اس لئے لوگوں نے شہید موصوف کی اس استقامت اور استقلال کو نہایت تعجب سے دیکھا اور در حقیقت تعجب کا مقام تھا کہ ایسا جلیل الشان شخص جو کئی لاکھ روپیہ کی ریاست کابل میں جاگیر رکھتا تھا اور اپنے فضائل علمی اور تقویٰ کی وجہ سے گویا تمام سرزمین کابل کا پیشوا تھا اور قریباً پچاس برس کی عمر تک تنعم اور آرام میں زندگی بسر کی تھی اور بہت سا اہل و عیال اور عزیز فرزند رکھتا تھا۔پھر یک دفعہ وہ ایسی سنگین قید میں ڈالا گیا جو موت سے بد تر تھی اور جس کے تصور سے بھی انسان کے بدن پر لرزہ پڑتا ہے۔ایسا نازک اندام اور نعمتوں کا پروردہ انسان وہ اس روح کے گداز کرنے والی قید میں صبر کر سکے اور جان کو ایمان پر فدا کرے۔بالخصوص جس حالت میں امیر کابل کی طرف سے بار بار ان کو پیغام پہنچتا تھا کہ اس قادیانی شخص کے تصدیق دعوئی سے انکار کر دو تو تم ابھی عزت سے رہا کئے جاؤ گے مگر اس قومی الایمان بزرگ نے اس بار بار کے وعدہ کی کچھ بھی پروانہ کی اور بار بار یہی جواب دیا کہ مجھ سے یہ امید مت رکھو کہ میں ایمان پر دنیا کو مقدم رکھ لوں۔اور کیونکر ہو سکتا ہے کہ جس کو میں نے خوب شناخت کر لیا اور ہر ایک طرح سے تسلی کرلی اپنی موت کے خون سے اس کا انکار کردوں؟ یہ انکار تو مجھ سے نہیں ہو گا۔میں دیکھ رہا ہوں کہ میں نے حق پا لیا اس لئے چند روزہ زندگی کے لئے مجھ سے یہ بے ایمانی نہیں ہوگی کہ میں اس ثابت شدہ حق کو چھوڑ دوں۔میں جان چھوڑنے کے لئے تیار ہوں اور فیصلہ کر چکا ہوں مگر حق میرے ساتھ جائے گا۔اس بزرگ کے بار بار کے یہ جواب ایسے تھے کہ سرزمین کابل کبھی ان کو فراموش نہیں کرے گی اور کابل کے لوگوں نے اپنی تمام عمر میں یہ نمونہ ایمان داری اور استقامت کا کبھی نہ دیکھا ہو گا۔اس جگہ یہ بھی ذکر کرنے کے لائق ہے کہ