تاریخ احمدیت (جلد 2)

by Other Authors

Page 320 of 687

تاریخ احمدیت (جلد 2) — Page 320

کابل میں حضرت سید عبد اللطیف صاحب کی درد ناک شہادت سمجھا کہ برگیڈئیر محمد حسین کو خط لکھا تاوہ مناسب موقع پر اصل حقیقت مناسب لفظوں میں گوش گزار کر دیں اور اس خط میں یہ لکھا کہ اگر چہ میں حج کرنے کے لئے روانہ ہوا تھا مگر مسیح موعود کی مجھے زیارت ہو ا گئی۔اور چونکہ مسیح کے ملنے کے لئے اور اس کی اطاعت مقدم رکھنے کے لئے خدا اور رسول کا حکم ہے اس مجبوری سے مجھے قادیان میں ٹھہرنا پڑا۔اور میں نے اپنی طرف سے یہ کام نہ کیا بلکہ قرآن اور حدیث کی رو سے اس امر کو ضروری سمجھا جب یہ خط برگیڈیر محمد حسین کو توال کو پہنچا تو اس نے وہ خط اپنے زانو کے نیچے رکھ لیا اور اس وقت پیش نہ کیا مگر اس کے نائب کو جو مخالف اور شریر آدمی تھا کسی طرح پتہ لگ گیا کہ یہ مولوی صاحبزادہ عبد اللطیف صاحب کا خط ہے اور وہ قادیان میں ٹھہرے رہے۔تب اس نے وہ خط کسی تدبیر سے نکال لیا اور امیر صاحب کے آگے پیش کر دیا۔امیر صاحب نے برگیڈیر محمد حسین کو توال سے دریافت کیا کہ کیا یہ خط آپ کے نام آیا ہے۔اس نے امیر کے موجودہ غیظ و غضب سے خوف کھا کر انکار کر دیا۔پھر ایسا اتفاق ہوا کہ مولوی صاحب شہید نے کئی دن پہلے خط کے جواب کا انتظار کر کے ایک اور خط بذریعہ ڈاک محمد حسین کو توال کو لکھا۔وہ خط افسر ڈاک خانہ نے کھول لیا اور امیر صاحب کو پہنچا دیا۔چونکہ قضا و قدر سے مولوی صاحب کی شہادت مقدر تھی اور آسمان پرده برگزیده بزمرہ شہد اورداخل ہو چکا تھا اس لئے امیر صاحب نے ان کے بلانے کے لئے حکمت عملی سے کام لیا اور ان کی طرف یہ خط لکھا کہ آپ بلا خطرہ چلے آؤ۔اگر یہ دعوی سچا ہو گا تو میں بھی مرید ہو جاؤں گا۔بیان کرنے والے کہتے ہیں کہ ہمیں یہ معلوم نہیں کہ خط امیر صاحب نے ڈاک میں بھیجا تھا یا دستی روانہ کیا تھا۔بہر حال اس خط کو دیکھ کر مولوی صاحب موصوف کابل کی طرف روانہ ہو گئے اور قضاء و قدر نے نازل ہو نا شروع کر دیا۔راویوں نے بیان کیا ہے کہ جب شہید مرحوم کابل کے بازار سے گزرے تو گھوڑے پر سوار تھے ان کے پیچھے آٹھ سرکاری سوار تھے اور ان کی تشریف آوری سے پہلے عام طور پر کابل میں مشہور تھا کہ امیر صاحب نے اخوند زادہ صاحب کو دھوکا دے کر بلایا ہے۔اب بعد اس کے دیکھنے والوں کا یہ بیان ہے کہ جب اخوند زادہ صاحب مرحوم بازار سے گزرے تو ہم اور دوسرے بہت سے بازاری لوگ ساتھ چلے گئے۔اور یہ بھی بیان کیا کہ آٹھ سرکاری سوار خوست سے ہی ان کے ہمراہ کئے گئے تھے کیونکہ ان کے خوست میں پہنچنے سے پہلا حکم سرکاری انکے گرفتار کرنے کے لئے حاکم خوست کے نام آپ کا تھا۔غرض جب امیر صاحب کے روبرو پیش کئے گئے تو مخالفوں نے پہلے سے ہی ان کے مزاج کو بہت کچھ متغیر کر رکھا تھا اس لئے وہ بہت ظالمانہ جوش سے پیش آئے اور حکم دیا کہ مجھے ان سے بو آتی ہے ان کو فاصلہ پر کھڑا کر و۔پھر تھوڑی دیر کے بعد حکم دیا کہ ان کو اس قلعہ میں جس میں خود امیر صاحب رہتے ہیں قید کر دو اور زنجیر غراغراب لگا دو۔یہ زنجیر و زنی ایک من