تاریخ احمدیت (جلد 2)

by Other Authors

Page 316 of 687

تاریخ احمدیت (جلد 2) — Page 316

تاریخ احمد بیت ، جلد ۲ ۳۱۳ کامل میں حضرت سے احب کی درد ناک شہادت بڑھ کر انسان کے لئے ممکن نہیں۔اور جیسا کہ ایک شیشہ عطر سے بھرا ہوا ہو تا ہے ایسا ہی میں نے ان کو اپنی محبت سے بھرا ہوا پایا۔اور جیسا کہ ان کا چہرہ نورانی تھا ایسا ہی انکا دل مجھے نورانی معلوم ہو تا تھا۔" اخبار البدر - ۲۱ نومبر ۱۹۰۲ء صفحہ ۳۵ کالم ۲ میں لکھا ہے ۱۸ - نومبر ۱۹۰۲ء سه شنبه۔۔۔ظهر و عصر - ان دونوں میں حضرت اقدس نے نماز با جماعت ادا کی۔چند ایک احباب معہ مولوی عبد الستار صاحب جو آج تشریف لائے تھے ان سے ملاقات کی ان کے تحفے تحائف لے کر انہوں نے حضرت اقدس کے بطور نذر پیشکش کئے تھے۔فرمایا ان کا آنا بھی ایک نشان ہے اور اس الہام یا تو ن من كل فج عمیق کو پورا کرتا ہے۔" ملاقات کے بعد حضور نے صاحبزادہ صاحب اور آپ کے رفقاء کے قیام کا تسلی بخش انتظام فرمایا۔حضرت صاحبزادہ صاحب یہاں ارادہ تو مختصر ملاقات کا لے کر آئے تھے مگر اس سے پہلے جو کتابوں کے ذریعہ سے سمجھا تھا چونکہ یہاں بہت کچھ زیادہ دیکھا اس لئے صفائی قلب کی وجہ سے نور الہی کی طرف ایسے جذب کئے گئے کہ سفر حج ملتوی کر کے کئی ماہ تک قادیان میں قیام کئے رکھا۔احمد نور صاحب کاہلی کا بیان ہے کہ حضرت مسیح موعود قیام قادیان کے بعض واقعات کے ساتھ جب ہم سیر کو جایا کرتے تھے اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام سیر سے واپس آکر گھر میں داخل ہوتے تو شہید مرحوم اپنے کپڑے گردو غبار سے صاف نہیں کرتے تھے جب تک ذرا ٹھہر نہ جائیں اور اندازہ نہ لگالیں کہ اب حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اپنے کپڑے جھاڑائے ہوں گے۔شہید مرحوم کو الہام اور بکثرت صحیح کشف بھی ہوتے تھے۔ایک روز مہمان خانہ میں سوئے ہوئے تھے کہ یکلخت اٹھ بیٹھے اور فرمایا کہ مجھ پر محمد نے چادر کی مانند بچھائے گئے کہ۔۔۔بالکل جدا نہیں ہو سکتے اور یہ الہام ہوا کہ جِسْمُهُ مُنَوَّرَ مُعَمَّرَ مُعَطَّرَ يُضِيُّ كَاللُّولُو الْمَكْنُونِ نُور عَلَى نُور - اورید بھی کہا کہ یہ نور ہمارے اختیار میں ہے۔چنانچہ ایک روز مولوی عبد الستار صاحب سے کہا کہ میرے چہرہ کی طرف دیکھو اور جھک گئے۔مولوی صاحب دیکھنے لگے تو نہ دیکھ سکے۔آنکھیں نیچی ہو گئیں۔پھر جب شہید مرحوم کھڑے ہو گئے تو مولوی صاحب نے دیکھا اور سبحان اللہ سبحان اللہ پڑھنا شروع کیا۔وزیریوں کے مولوی صاحب نے کہا کہ تم نے کیا دیکھا ہے۔مولوی صاحب ہے اور کہا کہ بہت کچھ دیکھا ہے اور یہ بھی کہا کہ جب میں نے آپ کے چہرہ کی طرف دیکھا تو ان کے چہرہ کی چمک نے جو کہ سورج کی مانند تھی میری نظر کو چندھیا دیا اور نیچے کر دیا۔اور پھر جب انہوں نے سر اٹھایا تو میں دیکھنے