تاریخ احمدیت (جلد 2)

by Other Authors

Page 315 of 687

تاریخ احمدیت (جلد 2) — Page 315

تاریخ احمدیت جلد ۲ -1 ۳۱۲ کالم میں ب کی درد ناک شہادت اس شہادت کے بعد ملک میں عام تباہی آئے گی مگر یہ واقعہ خدا کے سلسلہ کی ترقی میں سد راہ نہیں بن سکے گا۔اس پیشگوئی میں گو ملک وغیرہ کا کچھ نشان نہیں دیا گیا تھا مگر اس کی عبارت سے یہ ضرور معلوم ہو تا تھا کہ اول تو واقعہ انگریزی علاقہ میں نہیں ہو گا بلکہ کسی ایسے ملک میں ہو گا کہ جہاں عام ملکی قانون کی اطاعت کرتے ہوئے بھی لوگوں کے غصہ اور ناراضگی کے نتیجہ میں انسان قتل کئے جاسکتے ہیں۔دوم دو نو شہادتیں اس ایک ہی علاقہ میں ہوں گی کیونکہ دونوں کو ایک ہی لفظ میں جمع کر دیا گیا ہے۔یہ باتیں اس پیشگوئی کو بہت بالا کر دیتی ہیں۔اس پیشگوئی کے بعد تقریباً میں سال تک کوئی ایسے آثار نظر نہ آئے جن سے یہ پیش گوئی پوری ہوتی معلوم ہو مگر جب کہ قریباً بیس سال اس الہام پر گزرے تو اس پیشگوئی کا ایک حصہ 1991ء میں مولوی عبد الرحمن صاحب کی شہادت سے پورا ہو گیا۔الہام کے مطابق ایک اور شہادت باقی تھی جو اس سال کے وسط مین ۱۴ / جولائی ۱۹۰۳ء کو واقعہ ہوئی یعنی حضرت صاحبزادہ عبد اللطیف صاحب جیسے بزرگ اور متدین انسان بھی محض حضرت اقدس پر ایمان کے جرم میں دردناک طور پر شہید کر دئے گئے۔واقعہ یوں ہوا کہ حضرت صاحبزادہ عبد اللطیف حضرت صاحبزادہ صاحب کا سفر قادیان صاحب آخر ۱۹۰۲ء میں حج بیت اللہ کے ارادہ سے اپنے وطن سے روانہ ہوئے۔امیر حبیب اللہ خاں نے انعام واکرام سے رخصت کیا۔آپ کابل سے خوست اور وہاں سے لاہور ہوتے ہوئے ۱۸- نومبر کو قادیان تشریف لائے۔حضرت صاحبزادہ صاحب کے ساتھ مولوی عبد الجلیل صاحب اور سید عبد الستار صاحب اور ایک عالم بھی تھے جن کو وزیریوں کا مولوی کہا جاتا تھا۔سید عبد الستار صاحب کا بیان ہے کہ حضرت مولوی عبد اللطیف صاحب پیدل ہی بٹالہ سے قادیان روانہ ہوئے۔جب ہم قادیان پہنچے تو بلند آواز سے ياتون من كل فج عمیق و یا تیک من كل فج عمیق پڑھنے لگے ہم سب حضرت مولوی نورالدین صاحب سے ملے۔آپ نے ملاقات کے بعد فرمایا۔صاحبزادہ عبد اللطیف کا کیا حال ہے؟ میں نے عرض کیا یہ آپ کے پاس بیٹھے ہیں تب مولوی نور الدین صاحب اٹھ کر حضرت صاحبزادہ صاحب سے بغلگیر ہوئے اور گفتگو فرمانے لگے۔ظہر کی نماز کے بعد حضور علیہ السلام سے ملاقات کی۔حضرت اقدس نے اس ملاقات کے بارہ میں اپنے تاثرات یوں لکھے ہیں۔” جب مجھ سے ان کی ملاقات ہوئی تو قسم اس خدا کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے میں نے ان کو اپنی پیروی اور اپنے دعویٰ کی تصدیق میں ایسا فنا شدہ پایا کہ جس سے