تاریخ احمدیت (جلد 2)

by Other Authors

Page 301 of 687

تاریخ احمدیت (جلد 2) — Page 301

تاریخ احمدیت۔جلد ۲ ۲۹۸ مولوی کرم دین صاحب کا دوسرا طویل مقدمه دوسرا مقدمہ حکیم فضل دین صاحب نے دفعہ ۴۱۱ کے تحت "نزول المسیح" کے دوسرا مقدمه دیا۔تیرا مقدمه سرقہ کا دائر کر رکھا تھا۔اس میں بھی عدالت نے ۱۶۔مارچ ۱۹۰۴ء کو ملزم کو بری کر تیسرا مقدمہ ایڈیٹر الحکم شیخ یعقوب علی صاحب تراب کی طرف سے دائر تھا۔محولہ بالا مقدمات اور اس مقدمہ کے انتقال کی درخواست کی گئی تھی جو نا منظور ہوئی اور مقدمہ گورداسپور کی عدالت میں ہی دوسرے مقدموں کے ساتھ چلتا رہا۔۱۹۔اکتوبر ۱۹۰۳ء کو حضرت مولوی عبد الکریم صاحب نے بجواب جرح بیان دیا کہ میں یعقوب علی مستغیث کا پیر بھائی ہوں۔جو لوگ مرزا صاحب کو نہیں مانتے ان کو ہم کافر نہیں سمجھتے منکر خدا تعالی کی پیش گوئیوں کا اور قرآن و حدیث کے وعدوں کا سمجھتے ہیں۔جو لوگ خدا تعالٰی کی پیش گوئیوں اور قرآن وحدیث کے وعدوں کے منکر ہیں ان کو ہم کافر سمجھتے ہیں۔جو لوگ مرزا صاحب کے پیرو نہیں ہیں ان سے ہم سلام علیکم کرتے ہیں۔ان کے ساتھ کھانا کھاتے ہیں۔ان کے پیچھے نماز نہیں پڑھتے نہ ان کے جنازہ میں شامل ہوتے ہیں۔اس مقدمہ میں بھی پیر مہر علی شاہ صاحب کو استغاثہ کی طرف سے گواہ طلب کیا گیا تھا لیکن پیر صاحب نے لالہ سنت رام بیر سٹرایٹ لاء کے ذریعہ سے ۲۷ نومبر ۱۹۰۳ء کو میڈیکل سرٹیفکیٹ پیش کرتے ہوئے درخواست دی کہ سائل اپنی بیماری کی وجہ سے چند منٹ کے لئے بھی سوال و جواب سے معذور ہے۔لہذ الالہ چندو لال نے ان کی پیشی ۱۶۔دسمبر ۱۹۰۳ء کو رکھ دی۔لیکن اس دن پھر ڈاکٹری سرٹیفکیٹ پیش کر دیا گیا۔لالہ چند و لال صاحب نے فیصلہ کیا کہ اس حالت میں گواہ کو یہاں حاضر کرنے کے لئے مجبور کرنا مناسب معلوم نہیں ہوتا اور فی الحال بادی النظر میں اس کی شہادت کی بھی چنداں ضرورت معلوم نہیں ہوتی۔اس مقدمہ کا فیصلہ ۸ اکتوبر ۱۹۰۴ء کو حضرت مسیح موعود کے خلاف دائر شدہ مقدمہ کرم دین سے پیشتر سنایا گیا کہ کرم دین اور فقیر محمد کا جرم ثابت ہے لہذ المزم نمبرا کو پچاس روپیہ جرمانہ بصورت عدم ادائے جرمانہ دو ماہ کی قید محض اور ملزم نمبر ۲ کو چالیس روپیہ جرمانہ بصورت عدم ادائے جرمانہ ڈیڑھ ماہ قید محض کی سزادی جاتی ہے۔