تاریخ احمدیت (جلد 2)

by Other Authors

Page 270 of 687

تاریخ احمدیت (جلد 2) — Page 270

تاریخ احمدیت۔جلد ۲ ۲۶۷ مواهب الرحمن " کی تصنیف و اشاعت دوبارہ کچہری میں کچھری کے میدان میں آکر حضرت اقدس کی گاڑی ٹھری اور کثرت ہجوم کی وجہ سے حضرت اقدس گاڑی میں ہی تشریف فرما ر ہے۔آدمی پر آدمی گرا پڑتا تھا۔پولیس ڈنڈوں سے لوگوں کو پیچھے بناتی تھی مگر وہ شوق و ذوق کے عالم میں آگے ہی آگے بڑھتے جاتے تھے۔تین بجے کے قریب حضرت اقدس نے عدالت میں قدم رکھا۔عدالت کا کمرہ لوگوں سے بھرا ہوا تھا حتی کہ جس پلیٹ فارم پر مجسٹریٹ کی کرسی تھی۔اس پر بھی لوگ کھڑے تھے۔حضرت اقدس کرسی پر بیٹھے حضور کے ساتھ ایک بیرسٹر اور چار وکلاء اور مستغیث (کرم دین صاحب) کی طرف سے تین وکلاء دو ہندو اور ایک مسلمان حاضر عدالت تھے۔حضور کے وکلاء نے سوال اٹھایا کہ قانون کی رو سے کیا مولوی کرم دین صاحب کو اس دعوی کے دائر کرنے کا استحقاق ہے ؟ اور کیا یہ متوفی کے ان قریبی رشتہ داروں میں سے ہیں جو اس قسم کا استغاثہ دائر کر سکتے ہیں۔عدالت نے کرم دین صاحب کے بیانات لئے تو معلوم ہوا کہ مولوی کرم دین صاحب در اصل متوفی محمد حسن کے برادر نسبتی ہیں۔اس پر حضور کے وکلاء نے ثابت کیا کہ مسلمانوں میں بہنوئی کی وفات پر برادر نسبتی کا کوئی حصہ اس کے ترکہ میں سے نہیں رکھا گیا اور نہ رواج ہی نے برادر نسبتی کو کچھ دلایا ہے اس لئے کسی صورت میں یہ قریبی رشتہ داروں میں شمار نہیں ہو سکتے۔اور ان کے پردادوں کا سگے بھائی ہونا بھی ان کو ایک خاندان ہونا ثابت نہیں کر سکتا۔اور اس استدلال کی تائید میں بہت سے حوالہ جات قانونی فیصلے بھی دکھلائے۔اور بحث کے آخر میں کہا کہ مستغیث کے وکلاء کو کوئی ایسی نظیر پیش کرنی چاہئے کہ کسی متوفی کے قریبی رشتہ داروں مثلاً بیوی ، بچہ اور باپ کی موجودگی میں برادر نسبتی یا کسی اور دور کے رشتہ دار نے حق کا دعویٰ کیا ہو اور عدالت نے اسے صحیح تسلیم کر لیا ہو۔مستغیث کے وکلاء نے اس کے جواب میں بہت ہاتھ پیر مارے اور کہا کہ عام زبان زد خلائق ہے کہ۔ساری خدائی ایک طرف جورو کا بھائی ایک طرف یه ترمیم شده شعر سن کر حاضرین میں ایک فرمائشی قہقہہ پڑا۔عدالتی کارروائی پانچ بجے تک جاری رہی بالا خر مجسٹریٹ نے 19 جنوری ۱۹۰۳ء کو فیصلہ کا دن مقرر کیا اور کہا کہ اب فریقین کو جہلم میں نہ ٹھہرنے کی ضرورت ہے نہ دوبارہ آنے کی۔ان کے وکلاء کے سامنے ۱۹/ جنوری ۱۹۰۳ء کو فیصلہ سنا دیا جائے گا۔حضرت اقدس کی کچھری سے واپسی حضرت اقدس اجلاس ختم ہوتے ہی عدالت سے باہر تشریف لائے اور گاڑی میں سوار ہوئے۔بنگلہ