تاریخ احمدیت (جلد 2) — Page 266
تاریخ احمدیت جلد ۲ ۲۶۳ مواهب الرحمن " کی تصنیف و اشاعت د رفقاء کے نام وارنٹ جاری ہوئے اور عدالت میں پیشی کی تاریخ ۱۷/ جنوری ۱۹۰۳ء مقرر ہوئی۔دشمنوں کی خوشی حضرت اقدس کے خلاف مقدمہ دائر ہونے کی خبر پر مخالف اخبارات نے بڑی خوشی کا اظہار کیا۔چنانچہ لاہور کے اخبار ” پنجاب کا چار" نے لکھا کہ " مرزا قادیانی پر مالش ہے۔ان کا طرز تحریر بھی جہاں تک پڑھا ہے ملک کے لئے کسی طرح مفید نہیں بلکہ بہت دلوں کو دکھانے والا ہے۔اگر عدالت نالش کو سچا سمجھے تو مناسب ہے کہ سزا عبرت انگیز دیوے تاکہ ملک ایسے شخصوں سے جس قدر پاک رہے ملک اور گورنمنٹ دونوں کے لئے مفید ہے۔" ان الفاظ سے یہ اندازہ لگانا کچھ مشکل نہیں کہ دشمنان حق نے مقدمہ کی خبر پر کتنی خوشیاں منائی ہوں گی لیکن انہیں کیا معلوم تھا کہ خدائے ذو العرش کی طرف سے اس مقدمہ کے پیچھے تائید و نصرت کے کیسے کیسے سامان کئے جارہے ہیں اور یہ سامان بھی اس انسان کے لئے جو ابتداء ہی سے خلوت نشینی کو شہرت پر ترجیح دیتا رہا ہے۔چنانچہ حضور نے ۴/ جنوری ۱۹۰۳ء کو سفر جہلم کے سلسلہ میں فرمایا ” میری طبیعت ہمیشہ شور اور غوغا سے جو کثرت ہجوم کے باعث ہوتا ہے متنفر ہے۔۔۔وہی وقت انسان کسی علمی فکر میں صرف کرے تو خوب ہے۔خدا تعالیٰ نے ہماری اشاعت کا طریق خوب رکھا ہے کہ ایک جگہ بیٹھے ہیں نہ کوئی واعظ ہے نہ مولوی نہ لیکچرار جو لوگوں کو سناتا پھرے۔وہ خود ہی ہمارا کام کر رہا ہے۔بیعت کرنے والے خود آ رہے ہیں۔بڑے امن کا طریق ہے۔" جہلم سفر جہلم کی تیاری میں اولین چیز " مواہب الرحمن " کی طباعت تھی۔کیوں کہ اللہ تر جلی تعالیٰ کے جس عظیم الشان نشان کو پورا کرنے کے واسطے حضرت احمد مرسل یزدانی مسیح قادیانی علیہ الصلوۃ والسلام نے یہ سفر اختیار کرنا تھا اس کی کنجی وہ پیش گوئی تھی جو اس کتاب میں درج تھی کہ اللہ تعالیٰ اس مقدمہ میں کامیاب و کامران فرمائے گا۔۱۵/ جنوری ۱۹۰۳ء کو روانگی تھی اور ۱۴ / جنوری ۱۹۰۳ء کی شام کو ابھی کتاب کی گیارہ کا پیاں چھپنا باقی تھیں مگر کار پردازوں کے حسن انتظام اور جاں فشانی نے ہر ایک مشکل کو آسان کر دیا اور دوسرے روز ۱۵/ جنوری کو ظہر کے قریب کتاب "مواہب الرحمن " چھپ کر تیار ہو گئی۔روانگی حضور پر نور تین بجے کے قریب اپنے خدام سمیت (جن میں حضرت سید عبد اللطیف صاحب کا بلی بھی شامل تھے ) روانہ ہوئے اور نصف میل تک خدام کے ساتھ پا پیادہ چل کر رتھ میں سوار ہو گئے۔باقی خدام میں سے اکثریکوں پر بیٹھ گئے اور بعض نے حضور کے رتھ کے ساتھ پا پیادہ چلنے کو پسند کیا۔یہ قافلہ چھ بجے کے قریب بٹالہ پہنچا اور حضور آٹھ بجے کے قریب ٹرین میں