تاریخ احمدیت (جلد 2) — Page 265
تاریخ احمدیت۔جلد ۲ مواهب الرحمن " کی تصنیف اشاعت و کر ان کو محمد حسن صاحب فیضی کے نوٹ ظاہر کئے۔پھر اس دھوکے کے ذریعہ چھ روپے بھی حاصل گئے۔نیز لکھا کہ مرزا صاحب کا تمام کاروبار (معاذ اللہ ) محض مکرو فریب ہے اور آپ اپنے دعویٰ میں (معاذ اللہ ) کذاب اور مفتری ہیں۔12 مولوی کرم دین کے خلاف تین استغاثے حضرت اقدس کو یہ حق تھا کہ اپنی بریت ثابت کرنے اور ازالہ حیثیت عرفی کے لئے عدالت کی طرف رجوع کرتے لیکن آپ نے اپنے قدیم مسلک کے مطابق انتہائی صبر کیا اور منتظر رہے که مولوی کرم دین صاحب از خود اس مضمون کی تردید شائع کریں۔لیکن ایک ماہ تک انہوں نے کوئی تردید نہ کی جس پر حکیم فضل دین صاحب مالک و مستم ”ضیاء الاسلام " پریس قادیان نے (جن کے نام مولوی کرم دین صاحب نے ابتدائی خطوط لکھے تھے ) ۱۴/ نومبر ۱۹۰۲ء کو گورداسپور کی عدالت میں ان کے خلاف زیر دفعہ ۴۲۰ استغاثہ دائر کیا۔اس مقدمہ کی شہادت استغاثہ ہو رہی تھی کہ حکیم فضل الدین صاحب کی شہادت کے دوران میں ۲۲ / جون ۱۹۰۳ء کو مولوی کرم دین صاحب نے زیر طبع کتاب "نزول المسیح کے اوراق پیش کئے اور مستغیث سے تصدیق کروانا چاہی جس پر حکیم فضل دین صاحب نے ۲۹ / جون ۱۹۰۳ء کو زیر دفعہ ۴۱۱ تعزیرات ہند دو سرا استغاثہ دائر کر دیا اور بیان دیا کہ یہ کتاب بحیثیت مهتم مطبع ضیاء الاسلام قادیان میری ملکیت تھی۔اور چونکہ ابھی تک باضابطہ شائع نہیں ہوئی اس لئے یہ مال مسروقہ ہے اور ملزم (کرم دین صاحب) مال مسروقہ کو اپنے قبضہ میں رکھنے کا مجرم ہے۔علاوہ ازیں چونکہ مولوی کرم دین صاحب نے شیخ یعقوب علی صاحب تراب ایڈیٹر الحکم کے خلاف بھی زہر اگلا تھا اس لئے شیخ صاحب موصوف نے بھی مولوی کرم دین صاحب اور مولوی فقیر محمد صاحب ایڈیٹر و مالک سراج الاخبار " کے خلاف زیر دفعات ۵۰۲٬۵۰۱٬۵۰۰ از اله حیثیت عرفی کا دعویٰ دائر کر دیا۔اس طرح مولوی کرم دین صاحب کے خلاف تین استغاثے دائر ہوئے۔" مولوی کرم دین صاحب کی طرف سے استغاثہ ان استفانوں کے جواب میں مولوی کرم دین صاحب نے بھی رائے سنار چند صاحب اکسٹرا اسٹنٹ کمشنر بہادر مجسٹریٹ درجہ اول جہلم کی عدالت میں زیر دفعات ۵۰۰ ۵۰۲٬۵۰۱ حضرت مسیح موعود - عبد اللہ صاحب کشمیری اور شیخ یعقوب علی صاحب تراب کے نام ازالہ حیثیت عرفی کا استغاثہ دائر کر دیا۔بنیاد یہ رکھی کہ میرے بہنوئی مولوی محمد حسن فیضی متوفی کی (جس کا جدی لحاظ سے بھی قرابت کا تعلق ہے) سخت تو ہین کی گئی ہے۔اس مقدمہ پر حضور اور دوسرے