تاریخ احمدیت (جلد 2) — Page 13
تاریخ احمدیت۔جلد ۲ مدرسہ تعلیم الاسلام کا قیام یہ جامع سکیم پیش کرتے ہوئے حضور نے مسلمانوں سے اپیل کی کہ "اے مسلمانوں سے اپیل بزرگوا یہ وہ زمانہ ہے جس میں وہی دین اور دینوں پر غالب ہو گا جو اپنی ذاتی قوت سے اپنی عظمت دکھا دے۔پس جیسا کہ ہمارے مخالفوں نے ہزاروں اعتراض کر کے یہ ارادہ کیا ہے کہ اسلام کے نورانی اور خوبصورت چہرہ کو بد شکل اور مکروہ ظاہر کریں ایسا ہی ہماری کوششیں اسی کام کے لئے ہونی چاہیں کہ اس پاک دین کی کمال درجہ کی خوبصورتی اور بے عیب اور معصوم ہونا بپایہ ثبوت پہنچا دیں۔۔۔اور ان کو دکھلا دیں کہ اسلام کا چہرہ کیسا نورانی کیسا مبارک اور کیسا ہر ایک داغ سے پاک ہے۔۔۔خدا تعالیٰ نے ہمارے دل کو اسی امر کے لئے کھولا ہے کہ اس وقت اور اس زمانہ میں اسلام کی حقیقی تائید اسی میں ہے کہ ہم اس تخم بد نامی کو جو بویا گیا ہے اور ان اعتراضات کو جو یورپ اور ایشیا میں پھیلائے گئے ہیں جڑ سے اکھاڑ کر اسلامی خوبیوں کے انوار اور برکات اس قدر غیر قوموں کو دکھلا دیں کہ ان کی آنکھیں خیرہ ہو جائیں۔" حمایت اسلام کے میموریل کی نا منظوری حضرت اقدس کی پیش فرمودہ جامع سکیم آج بھی اور مسلمانوں کا اظہار اطمینان قائم ہے اور قیامت تک مشعل راہ کا کام دے گی مگر انجمن حمایت اسلام کا میموریل حکومت نے مسترد کر دیا جس پر مسلمانان پنجاب کے ذہین طبقہ نے بھی اظہار اطمینان کیا۔سر سید احمد خان صاحب کی طرف مسلمانوں کے مشہور سیاسی لیڈر سرسید احمد خان صاحب بھی حضور اقدس کے اس موقف کی سے حضور کے موقف کی تائید جواب دینا چاہیے۔تائید میں تھے کہ کتاب " امہات المؤمنین " کا سرسید اس کے جلد بعد انتقال کر گئے تو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے "البلاغ " میں انہیں بہادر زیرک ، حقیقت شناس اور فریس انسان قرار دیتے ہوئے لکھا۔انہوں نے اپنی تمام عمر میں ایسا کوئی فضول میموریل کبھی گورنمنٹ عالیہ کی خدمت میں نہیں بھیجا جیسا کہ اب لاہور سے بھیجا گیا۔بلکہ اب بھی جب ان کو کتاب " امہات المومنین " کے مضامین پر اطلاع ہوئی تو صرف رد لکھنا پسند فرمایا۔سید صاحب تینوں باتوں میں میرے موافق رہے۔اول حضرت عیسیٰ کی وفات کے مسئلہ میں۔دوم جب میں نے یہ اشتہار شائع کیا کہ سلطان روم کی نسبت گورنمنٹ انگریزی کے حقوق ہم پر غالب ہیں تو سید صاحب نے میرے اس مضمون کی تصدیق کی اور لکھا کہ سب کو اس کی پیروی کرنی چاہیے۔سوم اسی کتاب " امہات المؤمنین " کی نسبت ان کی یہی رائے تھی کہ اس کار د لکھنا چاہیے۔