تاریخ احمدیت (جلد 2)

by Other Authors

Page 254 of 687

تاریخ احمدیت (جلد 2) — Page 254

تاریخ احمدیت۔جلد ۲ ۲۵۱ اسلام کی فتح عظیم ہندوستان کے لئے ایک کھلا کھلا نشان ہو سکتا ہے وہ یہی ڈوئی کے مرنے کا نشان ہے کیوں کہ اور نشان جو میری پیش گوئیوں سے ظاہر ہوئے ہیں وہ تو پنجاب اور ہندوستان تک ہی محدود تھے اور امریکہ اور یورپ کے کسی شخص کو ان کے ظہور کی خبر نہ تھی۔لیکن یہ نشان پنجاب سے بصورت پیش گوئی ظاہر ہو کر امریکہ میں جا کر ایسے شخص کے حق میں پورا ہو ا جس کو امریکہ اور یورپ کا فرد فرد جانتا تھا۔۔۔۔اب ظاہر ہے کہ اس سے بڑھ کر اور کیا معجزہ ہو گا۔چونکہ میرا اصل کام کسر صلیب ہے سو اس کے مرنے سے ایک بڑا حصہ صلیب کا ٹوٹ گیا کیوں کہ وہ تمام دنیا سے اول درجہ حامی صلیب تھا جو پیغمبر ہونے کا دعویٰ کرتا تھا اور کہتا تھا کہ میری دعا سے تمام مسلمان ہلاک ہو جائیں گے اور اسلام نابود ہو جائے گا اور خانہ کعبہ ویران ہو جائے گا۔سوخد اتعالیٰ نے میرے ہاتھ پر اس کو ہلاک کیا۔میں جانتا ہوں کہ اس کی موت سے پیش گوئی قتل خنزیر والی بڑی صفائی سے پوری ہو گئی۔کیوں کہ ایسے شخص سے زیادہ خطر ناک کون ہو سکتا ہے کہ جس نے جھوٹے طور پر پیغمبری کا دعوی کیا اور خنزیر کی طرح جھوٹ کی نجاست کھائی۔اور جیسا کہ وہ خود لکھتا ہے اس کے ساتھ ایک لاکھ کے قریب ایسے لوگ ہو گئے تھے جو بڑے مالدار تھے۔بلکہ سچ یہ ہے کہ مسیلمہ کذاب اور اسود عنسی کا وجود اس کے مقابل میں کچھ چیز نہ تھا نہ اس کی طرح شہرت ان کی تھی۔نہ اس کی طرح کروڑہا روپیہ کے وہ مالک تھے۔پس میں قسم کھا سکتا ہوں کہ یہ وہی خنزیر تھا جس کے قتل کی آنحضرت ﷺ نے خبر دی تھی کہ مسیح موعود کے ہاتھ پر مارا جائے گا۔اگر میں اس مباہلہ کے لئے نہ بلاتا اور اگر میں اس پر بد دعانہ کرتا۔اور اس کی ہلاکت کی پیش گوئی نہ کرتا تو اس کا مرنا اسلام کی حقیقت کے لئے کوئی دلیل نہ ٹھہرتا۔لیکن چونکہ میں نے صدہا اخباروں میں پہلے شائع کرا دیا تھا کہ وہ میری زندگی میں ہی ہلاک ہو جائے گا۔میں مسیح موعود ہوں اور ڈائی کذاب ہے۔اور بار بار لکھا کہ اس پر یہ دلیل ہے کہ وہ میری زندگی میں ذلت اور حسرت کے ساتھ ہلاک ہو جائے گا چنانچہ وہ میری زندگی میں ہی ہلاک ہو گیا۔اس سے زیادہ کھلا کھلا معجزہ جو نبی اکرم کی پیش گوئی کو سچا کرتا ہے اور کیا ہو گا۔اب وہی اس سے انکار کرے گا جو سچائی کا دشمن ہو گا۔والسلام على من اتبع الهدى المشتهر میرزاغلام احمد صیح موعود از مقام قادیان ضلع گورداسپور پنجاب ۱۷ اپریل ۶۱۹۰۷