تاریخ احمدیت (جلد 2) — Page 236
تاریخ احمدیت جلد ۲ ۲۳۳ جماعت احمدیہ کی حیرت انگیز ترقی نہیں مگر ہاں نبض بھی نہیں۔سانس بھی نہیں لیتا۔پیٹ بھی پھول گیا ہے۔حرکت بھی نہیں کرتا۔غرض ساری علامات مردوں کی ہیں مگر مرا نہیں۔یہی ان لوگوں کا حال ہے کہ مسیح کو خدا نہیں کہتے مگر ساری خدائی کی صفات کو اس میں جمع کر دیتے ہیں۔مولوی صاحب آخر من سن کر چپکے سے اٹھ کر چل دیئے۔چونکہ عدالت کی پیشی میں دیر تھی۔اس لئے نماز ظہر و عصر قصر کر کے جمع کی گئی۔نماز میں کوئی دوسو کے قریب آدمی شریک ہوئے خلقت کا ایک اثر دھام ہو گیا۔اس موقعہ پر اٹھوال، سیکھواں و هرم کوٹ اور امرتسر کی جماعت کے دوست بھی بکثرت آئے ہوئے تھے۔بہت سے دوستوں نے اس وقت مجمع میں دوبارہ بیعت کی۔آخر دو بجے کے بعد آپ بطور گواہ پیش ہوئے۔خلقت کا ہجوم اس قدر تھا کہ برآمدوں اور کمرہ عدالت میں جگہ نہ تھی۔عدالت میں بمشکل کمرہ خالی کرایا اور بند کمرے میں آپ کی شہادت ہوئی۔منشی نصیر الدین صاحب منصف عدالت نے نہایت احترام سے حضرت اقدس کے لئے کرسی بچھائی اور آپ کو اس وقت تک کرسی پر بیٹھے رہنے کے لئے کہا جب تک کہ وہ عدالت کے کمرہ کو خالی نہ کرا چکے۔کمرہ میں گواہی کے وقت آپ کے خدام میں سے شیخ یعقوب علی صاحب تراب، مفتی محمد صادق صاحب، مولوی محمد علی صاحب اور شیخ عبد الرحمن صاحب نو مسلم موجود تھے۔شہادت ختم ہوئی تو حضور باہر تشریف لائے اور ایک جم غفیر کے حلقہ میں فرودگاہ پر پہنچے۔پھر بٹالہ سے روانہ ہوئے اور کوئی ساڑھے چھ بجے شام کے قریب قادیان پہنچ گئے - 1 مولوی ابو سعید محمد حسین صاحب بٹالوی اور مولوی عبد اللہ صاحب چکڑالوی کا مباحثہ اور حضرت مسیح موعود حکم ربانی کا ریویو فرقہ اہل حدیث حدیث کے بارے میں یہ غالیانہ عقیدہ رکھے ہوئے تھا کہ حدیث قرآن پر مقدم ہے۔اس افراط کی راہ کارد عمل بیسویں صدی عیسوی کے آغاز ہی میں خود اہل حدیث کے اندریہ پیدا ہوا کہ ان میں سے ایک طبقہ نے سرے سے حجت حدیث ہی سے انکار کر دیا اور اپنا نام اہل قرآن رکھ لیا۔اس گروہ کے بانی مولوی غلام نبی صاحب عرف مولوی عبد اللہ صاحب چکڑالوی تھے۔مولوی عبداللہ صاحب نے اپنے خیالات کی ترویج و اشاعت کے لئے سب سے قبل " البیان الصريح لاثبات كرا به التراويح " تالیف کیا۔پھر تفسیر القرآن کی ایک جلد شائع کی جس میں سلف