تاریخ احمدیت (جلد 2)

by Other Authors

Page 235 of 687

تاریخ احمدیت (جلد 2) — Page 235

تاریخ احمدیت۔جلد ۲ ۲۳۲ جماعت احمدیہ کی حیرت انگیز ترقی اعلان ثابت ہوا اور اس کا جواب بن نہ پڑا۔ایک سفر بٹالہ حکیم فضل الدین صاحب مہتم مطبع ضیاء الاسلام نے قادیان کے شمالی جانب نیلام شدہ فصیل کا ٹکڑا خرید کیا تھا اور حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام کے نام اس کا بیع نامہ لکھا تھا۔قادیان کے کسی شخص نے اس زمین کے متعلق دعویٰ دائر کر دیا کہ اس میں کچھ حصہ اس کی ملکیت کا بھی شامل ہے۔یہ مقدمہ قریباً ڈیڑھ سال سے چل رہا تھا۔آخر یدعی نے حضرت اقدس کو شہادت کے لئے طلب کرایا۔چنانچہ ۷ / نومبر ۱۹۰۲ء کو حضرت اقدس نے سفر بٹالہ اختیار فرمایا۔حضرت اقدس سات بجے صبح بالا خانہ سے تشریف لائے۔آگے نواب محمد علی خاں صاحب کی رتھ تیار تھی اور احباب جماعت اور طلباء مدرسہ ارد گرد جمع تھے۔حضور کے چاروں صاحبزادے تو رتھ میں بیٹھ گئے اور حضور اپنے خدام کے ساتھ پا پیادہ قصبہ سے باہر تک تشریف لے گئے اور سب سے مصافحہ کر کے رتھ میں سوار ہوئے۔اس سفر میں حضرت میر نا صر نواب صاحب مولوی محمد علی صاحب مولوی شیر علی صاحب ہیڈ ماسٹر مفتی محمد صادق صاحب شیخ یعقوب علی صاحب تراب ایڈیٹر الحکم، ماسٹر فقیر اللہ صاحب اور ماسٹر محمد نصیب صاحب اور مدرسہ کے چند طلباء حضور کے ہمراہ تھے۔حضور و بجے کے قریب بٹالہ میں عدالت کے متصل ایک باغ میں پہنچے۔کچھری کے عملہ کے علاوہ دوسرے زائرین کا ایک ہجوم ہو گیا۔حضرت اقدس حلقہ احباب میں فرش پر تشریف فرما ہوئے۔کھانا دستر خوان پر چنا گیا۔کھانے کے دوران میں ہی حضور سے بعض خدام نے ملاقات کی اور حضور اپنے قیمتی اور پر معارف کلام سے نوازتے رہے۔کھانے سے فارغ ہوئے تو اور لوگ بھی حضور کی خدمت میں ملاقات کے لئے آئے۔بٹالہ آنے کا تذکرہ ہوا تو فرمایا۔ہمارا یہاں آنا تو کوئی اور ہی حکمت رکھتا ہے۔ہر جگہ جو انسان قدم رکھتا ہے اس میں خدا کی حکمت ہوتی ہے۔زمین پر کچھ نہیں ہو تاجب تک آسمان پر تحریک مقدر نہ ہو۔اسی اثناء میں شیخ علی احمد صاحب پلیڈ ر گورداسپور آگئے۔انہوں نے حضور سے اپنے مقاصد کے لئے درخواست دعا کی۔ایک مولوی صاحب نے بھی جو عیسائیوں سے مباحثات کے بڑے مشتاق تھے حضور سے نیاز حاصل کیا۔حضرت اقدس نے انہیں فرمایا کہ اب آپ لوگوں کے وہ پرانے ہتھیار کام نہیں دیتے وہ کند ہو گئے ہیں اور خاطر خواہ کام نہیں دیتے بلکہ ان سے الٹا اسلام کو نقصان پہنچتا ہے۔۲۹ لاکھ کے قریب مسلمان مرتد ہو چکے ہیں۔ان کا وہی حال ہے جس طرح کوئی کہے کہ فلاں شخص مرا تو