تاریخ احمدیت (جلد 2)

by Other Authors

Page 211 of 687

تاریخ احمدیت (جلد 2) — Page 211

تاریخ احمد بہت جلد ۲ ۲۰۸ رساله " ریویو عبد الجبار اور عبد الخالق شہر امرتسر کی نسبت پیشگوئی کر دیں۔اور چونکہ فرقہ وہابیہ کی اصل جڑ دلی ہے اس لئے مناسب ہے کہ نذیر حسین اور محمد حسین دلی کی نسبت پیشگوئی کر دیں کہ وہ طاعون سے محفوظ رہے گا۔" اس کے ساتھ ہی حضور نے نہایت پر شوکت الفاظ میں یہ اعلان بھی فرمایا " ہر ایک مخالف خواہ وہ امرد ہہ میں رہتا ہے اور خواہ امرتسر میں اور خواہ دہلی میں اور خواہ کلکتہ میں اور خواہ لاہور میں اور خواہ گولڑہ میں اور خواہ بٹالہ میں اگر وہ قسم کھا کے کہے گا کہ اس کا فلاں مقام طاعون سے پاک رہے گا تو ضرور وہ مقام طاعون میں گرفتار ہو جائے گا کیونکہ اس نے خداتعالی کے مقابل پر گستاخی کی۔" حضور کے اس چیلنج پر آپ کے مخالفین میں سے خواہ وہ کسی فرقہ یا طبقہ سے تعلق رکھتے ہوں کسی کو بھی یہ جرات نہ ہو سکی کہ وہ یہ تجویز قبول کر کے اس قسم کا اعلان کرتا۔السید محمد رشید رضا کو عربی میں مقابلہ کا چیلنج اور الہدی والتبصرة لمن بری" کی تصنیف و اشاعت مفتی محمد عبده " شیخ الاسلام" کے ایک نامور شاگر د السید محمد رشید رضا (۱۸۶۸- ۱۹۳۵) تھے جن کی ادارت میں مصر کا مشہور رسالہ "المنار" شائع ہو تا تھا۔سیدنا حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے مصر میں جہاں اور علماء اور صحافیوں کو "اعجاز المسیح" کے چند نسخے ارسال کئے وہاں السید محمد رشید رضا کو بھی ایک نسخہ بھیجوایا تھا۔قاہرہ کے اخبار " مناظر " اور "ہلال " نے تو اس کی فصاحت و بلاغت کی بہت تعریف کی اور اسے ایک اعجازی تصنیف قرار دیا۔مگر السید محمد رشید رضا صرف اس وجہ سے کہ اس میں حضور نے "جہاد" کا صحیح نظریہ مسلمانوں کے سامنے رکھا تھا۔سخت کلامی پر اتر آئے اور لکھا کہ اس میں باطنیہ اور متصوفہ کا مسلک اختیار کیا گیا ہے اور کتاب میں تفسیر کا نام ونشان نہیں۔نیز لکھا کہ اگر یہ شخص مسیح ہونے کا دعویٰ نہ کرتا اور سورہ فاتحہ کے الفاظ میں تحریف نہ کرتا تو یہ تفسیر مسلمانوں میں بڑی مقبول ہوتی۔یہ شخص علم و فصاحت میں بہت سے مشائخ سے بڑھا ہوا ہے صرف مریدوں کی کثرت نے اسے دھو کہ میں ڈال دیا ہے حالانکہ اس کے کلام سے مجمعیت ٹپکتی ہے اور بہت سی باتیں عربی محاورات کے بھی خلاف ہیں۔ستر دن کی معیاد میں جواب لکھنے کا جو چیلنج حضور نے اس میں دیا تھا اس کے بارے میں انہوں نے یہ تعلی کی کہ ان کثیرا من اهل العلم يستطيعون ان يكتبوا خيرا منه في سبعة ايام " یعنی بہت سے علماء اس سے بہتر رسالہ سات دن میں لکھ سکتے