تاریخ احمدیت (جلد 2) — Page 203
تاریخ احمدیت جلد ۲ تعریف نبوت میں تبدیلی ولادت ۱۸۷۲ء حضرت مسیح موجود علیہ السلام کے ایک بے نفس فدائی۔جن کی عمر سلسلہ احمدیہ کی مالی اور انتظامی خدمت میں گزری۔تعمیر منارۃ المسیح کی تحریک میں آپ کو اور آپ کی اہلیہ صاحبہ دونوں کو شرکت کی سعادت حاصل ہوئی۔آپ موصی بھی تھے اور تحریک جدید کی پانچ ہزاری فوج کے سپاہی بھی "بدر " اور " شمعید الاذہان " میں متعدد مضامین لکھنے کے علاوہ بعض رسائل بھی تالیف کئے مثلا گوشت خوری انتخاب خلافت قدامت روح و ماده و تاریخ - اصول قرآن نہی۔کیا اسلام بذریعہ تبلیغ پھیلایا یا بذریعہ شمشیر ۱۹۳۲ء میں ہجرت کر کے قادیان آگئے۔۱۹۳۴ء میں حج کیا۔۷ / اگست ۱۹۵۸ء کو وفات پائی ( تفصیل کے لئے ملاحظہ ہو " اصحاب احمد " جلد سوم طبع دوم - متولقہ ملک صلاح الدین صاحب ایم۔اے) ۲۔ان مجاہدین کی صف اول میں تھے جنہوں نے اندرون ملک کے علاوہ یورپ اور افریقہ میں تبلیغ اشاعت اسلام کی توفیق پائی۔قادیان آنے سے قبل کپور تھلہ میں سکول ماسٹر تھے مگر بیعت کے بعد حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی مقناطیسی محبت آپ کو بھینچ کر بالاخر دیار حبیب میں لے آئی اور آپ ستمبر 1904ء سے قادیان میں رہائش پذیر ہو گئے۔ابتداء آپ مدرسہ تعلیم الاسلام ہائی سکول کے استاد مقرر ہوئے اور کئی سال تک نہایت اخلاص ومحنت سے یہ خدمت سرانجام دی۔۱۵/ جولائی 1919ء کو چوہدری فتح محمد صاحب سیال کے ساتھ اعلائے کلمتہ اللہ کے لئے انگلستان روانہ ہوئے۔انگلستان میں کئی ماہ فریضہ تبلیغ ادا کرنے کے بعد آپ کو افریقہ بھیجوایا گیا۔۲۱/ فروری ۱۹۱۳ء کو آپ نے ساحل افریقہ پر قدم رکھا اور سب سے پہلے میرالیون اور مغربی افریقہ کے دوسرے علاقوں میں پہنچے آپ کو حیرت انگیز کامیابی نصیب ہوئی اور ہزاروں افریقی حلقہ بگوش احمدیت ہوئے۔ایک سال تک نائیجریا ٹھہرنے کے بعد آپ کو دوبارہ انگلستان بھیجوا دیا گیا جہاں سے آپ ۱۹۲۴ء کے آخر میں حضرت فضل عمر ایدہ اللہ تعالٰی کی رفاقت میں بائیل و مرام واپس آگئے۔انگلستان سے واپسی کے بعد آپ نے پانچ سال تک دعوت و تبلیغ کے سلسلہ میں بھوپال اور حیدر آباد میں خدمت سر انجام دیں۔۱۹۴۷ء کے فسادات کے بعد آپ گوجرانوالہ میں پناہ گزین ہو گئے اور اسی مقام پر ۱۷/ تمبر ۱۹۴۸ء کو اس دنیائے فانی سے رحلت فرما گئے۔۴۳- ولادت ۱۸۸۳ء حضرت ماسٹر عبدالرحیم صاحب نیرے ان کے دیرینہ تعلقات تھے اور انہی کی تلقین و تحریک سے داخل سلسلہ ہوئے۔جس زمانہ میں قادیان تک ریل نہیں گئی تھی متعددا کا بر سلسلہ بلکہ حضرت خلیفتہ المسیح الاول بھی بعض اوقات آپ کے یہاں (مالہ میں قیام فرماتے تھے۔مدرسہ احمدیہ میں برسوں تک نہایت محنت اور خلوص سے دری کے فرائض سر انجام دیتے رہے۔خدمت خلق آپ کی طبیعت کا خاصہ تھا۔قادیان کی لوکل کمیٹی کے صدر بھی رہے۔جلسہ سالانہ کے ایام میں قادیان کے اندرون شہر کا قریباً سارا انتظام بطور ناظم جلسہ آپ کے سپرد ہو تا تھا۔دیگر اہم قومی خدمات بھی بجا لانے کا آپ کو موقعہ طا۔۲۰/ اگست ۱۹۵۰ء کو بمقام لائلپور انتقال فرمایا اور ربوہ میں موصیوں کے قبرستان میں امانتا سپرد خاک ہوئے۔(الفضل ۲۶/ ستمبر۱۹۵۰ء صفحہ ۶۔۷) -۲۴ ولادت ۲۰ مئی ۱۸۸۱ء احمدیت کی آواز آپ تک حضرت قاضی ضیاء الدین صاحب رضی اللہ عنہ نے پہنچائی اور اس کی صداقت کا انکشافی بذریعہ رویا ہوا۔آپ موصی بھی تھے اور تحریک جدید کے دفتر اول کے مجاہد بھی۔علاوہ ازیں آپ کو سلسلہ کی متعدد خدمات کی توفیق ملی۔۱۹۳۵ء میں پنشن لے کر قادیان آگئے اور آخر دم تک جماعتی کاموں کے لئے وقف رہے سلسلہ کا لٹریچر بڑے اہتمام سے رکھتے تھے۔اور تبلیغ کا خاص ذوق و شوق تھا۔۳/ مئی ۱۹۵۳ء کو آپ کا انتقال ہوا۔ربوہ کے مقبرہ خاص کے قطعہ صحابہ میں آپ کا مزار مبارک ہے۔مولوی عبدالرحمن صاحب انور حضرت خلیفتہ المسیح الثانی ایدہ اللہ تعالی کے پرائیویٹ سیکرٹری اور مولوی قدرت اللہ صاحب مبلغ ہالینڈ آپ ہی کے فرزند ہیں۔(تفصیل کے لئے ملاحظہ ہو "اصحاب احمد " جلد ہفتم صفحہ ۶۷ - ۳۱۸) ۴۵ ولادت ۱۴ دسمبر ۱۸۸۱ء وطن مالوف لاہور۔شروع ۱۹۰۳ء میں مستقل ہجرت کر کے قادیان آگئے۔۱۹۰۷ء میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تحریک وقف زندگی پر جن بزرگوں نے لبیک کسی ان میں آپ بھی شامل ہیں مئی ۱۹۱۴ ء سے جنوری ۱۹۲۱ء تک تعلیم الاسلام ہائی سکول قادیان میں ہیڈ ماسٹر رہے۔جنوری ۱۹۲۳ء سے دسمبر ۱۹۲۵ء تک امریکہ میں تبلیغ اسلام کے فرائض سرانجام دیئے۔۱۹۲۷ء سے ۱۹۴۰ء تک دوبارہ ہیڈ ماسٹر کی حیثیت سے تعلیم الاسلام ہائی اسکول قادیان کی خدمات بھی بجالائے۔۱۹۴۲ء سے ۱۹۴۷ء تک گرلز ہائی سکول قادیان کے ہیڈ ماسٹر رہے اور اب ناظر تعلیم کے عہدہ پر فائز ہیں۔مولوی صاحب