تاریخ احمدیت (جلد 2) — Page 202
تاریخ احمدیت۔جلد ۲ صحابہ جلد ۱ صفحه ۲۹۱) 199 تعریف نبوت میں تبدیلی ۲۲ بطور مثال ملاحظہ ہور سالہ ریویو آف ریلیجز اردو جلد ۳ نمبر ۳ جلد ۳ نمبرے، جلد ۳ نمبر جلد ۴ نمبر ۲ جلد ۴ نمبر ۳ جلد ۴ نمبر ۱۱۰ جلد ۴ نمبر ۱۲ جلد ۵ نمبر ۴ جلد نمبر جلدہ نمبر ۸ جلد نمبر ۳ جلد نمبر ۴ جلد نمبرے جلدے نمبرے ۲۳- چنانچه اخبار بد ر ۱۸ جون ۱۹۰۸ء صفحہ کالم سو پر لکھا ہے۔”ہر ایک احمدی اس عقیدہ پر قائم ہے کہ مبارک و مطهر و مقدس وجود جسے لوگ مرزا قادیانی کہتے تھے خدا اکابر گزیدہ نبی ہے۔" شیخ عبد الرحمن صاحب مصری نے ۲۴/ اگست ۱۹۳۵ء کو اپنی ایک حلفیہ شہادت میں لکھا کہ ” میں حضرت صاحب یعنی مسیح موعود علیہ السلام کے زمانہ کا احمد کی ہوں میں نے ۱۹۰۵ء میں بیعت کی تھی۔میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو اسی طرح کانی یقین کرتا تھا اور کرتا ہوں جس طرح خدا کے دیگر نبیوں اور رسولوں کو یقین کرتا ہوں۔نفس نبوت میں نہ اس وقت کوئی فرق کرتا تھا اور نہ اب کرتا ہوں۔میرے اس عقیدہ کی بنیاد حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تقاریر و تحریرات اور جماعت احمدیہ کا متفقہ عقیدہ تھا۔" (حلفیہ شہادت رسالہ " فرقان "مارچ ۱۹۴۶ صفحه ۲۸) ۲۴ اخبار بد را / جون ۱۹۰۸ء صفحه ۶ ۲۵ حقیقته الوحی طبع اول تخمه صفحه ۷۸ الحکم ۲۴/ نومبر ۱۹۰۱ء صفحه ۹ - ۱۴ ۲۷- احکم ۲۴/ نومبر ۱۹۰۱ء صفحه۶-۱۳ -٢٦ ۲۸- الحام ۲۴ و نمبر ۱۹۰۱ء صفحه ۷۱ " ۲۹۔تفصیل کے لئے ملاحظہ ہو " تاریخ اقوام عالم " شائع کردہ مجلس ترقی ادب -۲- نرسنگھ راس گارڈن کلب لاہور۔جدید معلومات سائنس" از آفتاب حسن ناشر انجمن ترقی اردو ہند دہلی۔" موجدوں کی کہانیاں " ایجادیں "" سائنس کے معجزے " مطبوعہ فیرد زمنزل ہوں۔EDITED BY ۳۱ الحام 10 نومبر 1901ء صفحہ ا کالم 1 ۳۲۔احکام دار تو میرا ۱۹۰ ء صفحہ بہ کا نما "THE NEW CENTURY CYCLOPEDIA OF NAMES” CLARENCE L۔BARNBART VOLUME I 1954 P۔1399۔۳۳۔احکم ۱۰ کو تو میرا ۱۹۰ء صفحہ کا کم ۲۰۱ ۳۴ اصحاب احمد " جلد دوم صفحه ۱۳۷۵ ڈائری حجتہ اللہ حضرت نواب محمد علی خان) احکم ۳۰/ نومبر ۱۹۰۱ء صفحہ ۱۴ کالم ۳ ۳۔احکم ۳۰/ نومبر ۱۹۰۱ ء صفحہ ۱۴ کالم ہو ۱۷ ۳۷- احکام ۱۰ / اپریل ۱۹۰۳ء صفحہ ۲ کالم ۱۴۳ حکم ۷ از اپریل ۱۹۰۳ء صفحہ اکالم ۱ ۳۸- احکام ۲۴/ نومبر ۱۹۰۹ء صفحه ۱- ۳ ۱ حکم ۱۳۰ نومبر ۱۹۰۱ء صفحہ ا کالم۔۲ الحکم ۱۷ دسمبر ۱۹۰۱ء صفحہ۔۱۴ الحکم ۲۳ دسمبر ۱۹۰۹ء صفحہ ۱۔۳ ۳۹- وفات ۲۳ جون ۶۱۹۳۰ عمر ۷۵ سال۔حضرت خلیفہ المی الثانی ایدہ اللہ تعالی کے خسرادر جناب سید زین العابدین ولی اللہ شاہ صاحب حال ناظر امور خارجہ کے والد ماجد ۱۹۲۰۱ء میں پنشن لینے کے بعد :: یان میں مستقل رہائش اختیار کرلی تھی۔نہایت مخلص صحابی ، صاحب کشف و الہام اور مستجاب الدعوات بزرگ تھے ان کے بعض ایمان افروز واقعات کے لئے ملاحظہ ہو الفضل ۱۱۳ ستمبر ۱۹۵۷ء صفحه ۳-۴) ۴۰ ولادت اند از ا۱۸۷۷ ء وفات ۱۷/ جنوری ۱۹۴۵ء پہلی بار ۱۹۰۳ میں قادیان آئے اور حضرت مسیح موعود کی زیارت کی۔۱۹۲۳ء میں مستقل طور پر قادیان ہجرت کر کے آگئے اور یہاں وفات تک پہلے آڈیٹر اور پھر محاسب کے عہدے پر فائز رہے۔دہلی میں انتقال ہوا اور بہشتی مقبرہ کے قطعہ خاص میں دفن ہونے کی سعادت پائی (الفضل ۲۹-۳۰/ مارچ ۱۹۴۵ء)