تاریخ احمدیت (جلد 2)

by Other Authors

Page 179 of 687

تاریخ احمدیت (جلد 2) — Page 179

تاریخ احمدیت جلد ۲ 144 رسالہ " ریویو آف ریلیجود " کی تجویز عہد و پیماں موافق ان کی مرضی کے فورا شائع کردیں گے اور مشہور کر دیں گے کہ مرزا صاحب کفرو ارتداد سے نکل کر اسلام میں داخل ہو گئے ہیں۔اس حقارت آمیز رویہ کے پیچھے صرف یہ خیال کار فرما تھا کہ یہ جماعت اپنی تعداد میں نہایت درجہ قلیل ہے اور عنقریب مخالفتوں کی تاب نہ لاکر صفحہ ہستی سے ہمیشہ کے لئے محو ہو جائے گی چنانچہ انہوں نے صاف لکھا۔اس فرقہ ابو جمیلیه و طائفه احمقیہ کو اتباع مسیلمہ کذاب و اسود عنسی و امثالها پر قیاس کرنا چاہئے نہ حنفی شافعی وغیرہما پر۔اور عنقریب انشاء اللہ ان کی طرح خدا اس کو مضمحل و نیست و نابود کر دے گا۔ایسا مذ ہب خبیث ناپاک، بے بنیاد عقل اور نقل دونوں کے خلاف متناقض و متبات کبھی پھیل نہیں سکتا۔" لیکن یہ محض ان کی خام خیالی تھی آخر ہوا دہی جو حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے لکھا تھا کہ احمدیت کا بیج بویا جا چکا ہے اب یہ عظیم الشان درخت بنے والا ہے اور حق جوئی کے پرندے آرام کرنے والے ہیں۔چنانچہ پوری صدی کی مخالفتوں اور فتنہ سامانیوں کے بعد اب احمدیت کا درخت نهایت سرعت سے شرق و غرب میں پھیل رہا ہے اور طیور ابراہیمی اس پر بیسرا کر رہے ہیں۔طاعون کے بارے میں پھر انتباہ ۴۴ یوں تو حضرت اقدس خدا تعالٰی سے علم پا کر تین سال سے طاعون کی خبر دے رہے تھے مگراب 1901 ء میں جب خدا کی پیش گوئی کے مطابق طاعون کا زور بہت بڑھ گیا اور وہ سیل رواں کی طرح ملک کے چاروں طرف داخل ہو گئی تو آپ نے ہندوستان کے باشندوں کو ۱۷ مارچ ۱۹۰۱ء کو ایک اشتہار کے ذریعہ سے انتباہ فرمایا کہ "اے نانکو! یہ نہیں اور ٹھٹھے کا وقت نہیں ہے یہ وہ بلا ہے جو آسمان سے آتی اور صرف آسمان کے خدا کے حکم سے دور ہوتی ہے اگر چہ ہماری گورنمنٹ عالیہ بہت کوشش کر رہی ہے اور مناسب تدبیروں سے یہ کوشش کر رہی ہے مگر صرف زمینی کوششیں کافی نہیں ایک پاک ہستی موجود ہے جس کا نام خدا ہے۔یہ بلا اسی کے ارادہ سے ملک میں پھیلی ہے کوئی نہیں بیان کر سکتا کہ یہ کب تک رہے گی اور اپنی رخصت کے دنوں تک کیا کچھ انقلاب پیدا کرے گی اور کوئی کسی کی زندگی کا ذمہ دار نہیں۔سو اپنے نفسوں اور اپنے بچوں اور اپنی بیویوں پر رحم کرو۔چاہئے کہ تمہارے گھر خدا کی یاد اور توبہ اور استغفار سے بھر جائیں اور تمہارے دل نرم ہو جائیں۔اس اردو اشتہار کے بعد ۱۰ دسمبر ۱۹۰۱ء کو حضور نے عربی زبان اور اردو ترجمہ کے ساتھ ایک اور اشتہار دیا جس میں ایک شفیق اور مہربان آسمانی طبیب کی حیثیت سے اہل ملک کو دوبارہ طاعون کے