تاریخ احمدیت (جلد 2)

by Other Authors

Page 178 of 687

تاریخ احمدیت (جلد 2) — Page 178

تاریخ احمدیت جلد ۲ 140 رسالہ " ریویو ریلیجز کی تجویز شرط تہذیب و شائستگی ہے فریق ثانی مدارات سے پیش آئیں " نیز لکھا کہ ” میں نے یہ انتظام کر لیا ہے کہ ہماری جماعت میں سے کوئی شخص تحریر یا تقریر کے ذریعہ سے کوئی ایسا مضمون شائع نہیں کرے گا جس میں آپ صاحبوں میں سے کسی صاحب کی تحقیر اور توہین کا ارادہ کیا گیا ہو اور اس انتظام پر اس وقت سے پورا عمل درآمد ہو گا جب کہ آپ صاحبوں کی طرف سے اس مضمون کا ایک اشتہار نکلے گا۔اس اشتہار میں حضور نے علماء کو اس طرف بھی توجہ دلائی کہ اگر یہ کاروبار خدا کی طرف سے نہیں ہے تو خود یہ تباہ ہو جائے گا اور اگر خدا کی طرف سے ہے تو کوئی دشمن اس کو تباہ نہیں کر سکتا اس لئے محض قلیل جماعت خیال کر کے تحقیر کے درپے رہنا طریق تقوی کے برخلاف ہے یہی تو وقت ہے کہ ہمارے مخالف علماء اپنے اخلاق دکھلائیں ورنہ جب یہ احمدی فرقہ دنیا میں چند کروڑ انسانوں میں پھیل جائے گا اور ہر ایک طبقہ کے انسان اور بعض ملوک بھی اس میں داخل ہو جائیں گے جیسا کہ خدا تعالیٰ کا وعدہ ہے تو اس زمانہ میں تو یہ کینہ اور بغض خود بخود لوگوں کے دلوں سے دور ہو جائے گا لیکن اس وقت کی مخالفت اور مدارات خدا کے لئے نہیں ہوگی۔۔۔آئندہ جس فریق کے ساتھ خدا ہو گا وہ خود غالب ہوتا جائے گا دنیا میں سچائی اول چھوٹے سے تخم کی طرف آتی ہے اور پھر رفتہ رفتہ ایک عظیم الشان درخت بن جاتا ہے وہ پھل اور پھول لاتا ہے اور حق جوئی کے پرندے اس میں آرام کرتے ہیں۔" علماء کا مصالحت سے قطعی انکار اس زمانہ کے علماء نے جو ہر حال میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام اور آپ کے خدام کو صفحہ ہستی سے مٹا دینے کے درپے تھے صلح کے نام پر ہی سخت آگ بگولا ہو گئے اور مصالحت سے صاف انکار کرتے ہوئے بذریعہ از راشتہار اعلان کیا کہ ہم آپ سے تہذیب و شائستگی اور مدارات کا معاملہ کرنا جائز ہی نہیں سمجھتے آپ (معاذ اللہ) مرتد و کافر اور داعی الی انقلال ہیں اور آیت یا ايها النبي جاهد الكفار والمنافقين واغلظ عليهم و ما و هم جهنم وبئس المصير کے مصداق - لہذا آپ سے صلح ان شرائط سے ہو سکتی ہے اول یہ کہ آپ علماء سے معافی مانگیں دوسرے آپ اپنی تمام کتابوں کو علی رؤس الا شہاد جمع کر کے جلا دیں اور اشتہار عام کے ذریعہ سے ان کتابوں سے بیزاری کا اظہار کریں اور آئندہ پختہ عزم کریں کہ زندگی بھر ان کے مذہب کی تائید و خدمت کروں گا اور جو کچھ حق میں چھپایا ہے اسے خوب بیان کروں گا۔جب مرزا صاحب ایسا کریں گے تب جناب پیر مہر علی شاہ ناقل) صاحب اور ہم سب اہل اسلام مرزا صاحب کو از سر نو اسلام میں داخل ہونے کی مبارک باد دے کر مصالحت کا