تاریخ احمدیت (جلد 2) — Page 174
تاریخ احمدیت۔جلد ۲ رسالہ " ریویو آف ریلی " کی تجویز اعجاز ا مسیح کی بلاد عرب میں اشاعت حضرت اقدس علیہ السلام نے اعجاز امسیح کے متعدد نسخ نہ صرف دلی کے نامی گرامی علماء کو بھجوائے بلکہ حرمین اور شام و مصر میں بھی اس کی اشاعت فرمائی۔قاہرہ کے بعض اخبارات مثلاً tt مناظر " اور "ہلال نے اعتراف کرتے ہوئے اس پر شاندار ریویو لکھے اور اس کی فصاحت و بلاغت کی تعریف کی۔بلکہ اخبار " مناظر" کے ایڈیٹر نے تو یہاں تک لکھا کہ بے شبہ اس کتاب کی فصاحت و بلاغت معجزے کی حد تک پہنچ گئی ہے اور علماء ہرگز اس کے مقابل پر تفسیر لکھنے پر قادر نہیں ہو سکیں A جمع الصلوة کا نشان پیغمبر عالم آنحضرت اللہ نے مسیح موعود کی جو علامات بتائی تھیں ان میں ایک علامت یہ بھی تھی كه " تجمع له الصلوۃ یعنی مسیح موعود کے لئے نمازیں جمع کی جائیں گی جس میں اس طرف اشارہ تھا کہ مصروفیت کا ایک زمانہ اس پر ایسا آئے گا کہ اس کے دینی اغراض و مقاصد کی تکمیل کے لئے نمازیں جمع کی جائیں گی۔ضمناً اس سے یہ بھی بتانا مقصود تھا کہ مسیح موعود نماز کے وقت پیش امام نہیں ہو گا بلکہ کوئی اور امامت کرائے گا سو اس پیش گوئی کے عین مطابق قریباً اکتوبر ۱۹۰۰ ء سے فروری ۱۹۰۱ء تک کا دور ایسا رایسا آیا جب کہ خطبہ المامی " تحفہ گولڑویہ " تریاق القلوب " اور بعض دو سری کتب آیا " کی تکمیل اور "انجاز المسیح کی تصنیف کے سلسلہ میں چار پانچ ماہ تک حضرت مولوی عبد الکریم صاحب مسجد مبارک میں ظہر و عصر کی نمازیں جمع کرواتے رہے۔یہ دور فی الحقیقت آپ کے لئے ایک زیر دست علمی جنگ کا تھا اور ضعف دماغ اور دوسرے ملک عوارض کے باوجو د دل میں خدمت دین کا اس درجہ جوش پیدا ہوا کہ "اعجاز المسیح لکھ چکے تو طبیعت نے چاہا کہ دوسری اہم دینی مہمات کی طرف توجہ کرنے سے پہلے دو تین دن آرام کیا جائے مگر خالی بیٹھے رہنا آپ کو گوارا نہ ہوا۔چنانچہ ۲۳/ فروری ۱۹۰۱ء کو خود ہی فرمایا۔" تفسیر کا کام تو ختم ہو گیا اور ہم چاہتے تھے کہ دوسرے ضروری کاموں کے شروع کرنے سے پہلے دو تین دن آرام کر لیتے مگر جی نہیں چاہتا کہ خالی بیٹھے رہیں۔مثنوی مولانا روم میں لکھا ہے کہ ایک بیماری ہوتی ہے کہ انسان چاہتا ہے کہ اس کو ہر وقت کوئی کمیاں مارتا رہے۔ایسا ہی اہل اللہ کا حال ہو تا ہے کہ وہ آرام نہیں کر سکتے کبھی خدا ان پر کوئی محنت نازل کرتا ہے اور کبھی وہ آپ کوئی ایسا کام چھیٹر بیٹھتے ہیں جس سے ان پر محنت نازل ہو۔نہایت درجہ برکت کی بات یہ ہے کہ انسان خدا کے واسطے کسی