تاریخ احمدیت (جلد 2) — Page 163
تاریخ احمدیت۔جلد ؟ 14- جماعت کا فرقہ احمدیہ سے موسوم ہونا خدمت میں پیش کئے اور کہا۔کہ وہ انہیں لے جائیں اور خود ملاحظہ فرما دیں کہ آیا دونوں کے مضمون اور مفہوم میں کوئی فرق تو نہیں؟ نمبر ۵۲۶ نمبر ۱ ۶۴ اسی مورخه ۲۴۔ستمبر ۱۸۹۴ء جناب ہے۔ایس ڈانلڈ - ی۔آئی۔آر۔آفیسر آن پیش دیوٹی کرم بنام کمشنر صاحب (و سپرنٹنڈنٹ) پشاور ڈویژن میں نے ایک خط مورخہ ۲۱ ستمبر کو جناب سردار شرندیل خان صاحب کے خدمت میں بھیجا تھا اور اس کا جواب مجھے صاحبزادہ عبد اللطیف جان صاحب کے ذریعے شام کے وقت موصول ہوا جو سردار صاحب موصوف کے قابل اعتماد ساتھی اور نمائندے ہیں۔جناب صاحبزادہ صاحب میرے پاس ایک نقشہ لے کر آئے۔جس کے متعلق یہ خیال ہے۔کہ وہ افغانستان کے نقشے کی صحیح نقل ہے۔(بحساب انچ فی۔۲۴ میل) اور مجھ سے انہوں نے دریافت کیا۔کہ میں یہ نقشہ دیکھ کر انہیں بتاؤں کہ اس نقشے میں اور میرے نقشے میں کیا فرق ہے؟ (نوٹ) مندرجہ بالا اقتباسات ڈیورنڈ لائن (۹۴ - ۱۸۸۳ء) کے قدیم ریکارڈ سے ماخوذ ہیں جو پشاور میوزیم میں محفوظ ہے اور جس کی مصدقہ نقل شعبہ تاریخ احمدیت ربوہ کے دفتر میں بھی ہے۔مجلس تشخیز الاذہان کی بنیاد ۱۹۰۰ء میں حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر الدین محمود احمد صاحب نے ایک مجلس کی بنیاد رکھی جس کا نام سید نا حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے " شعید الاذہان " تجویز فرمایا۔یہ دنیا میں احمدی نوجوانوں کی پہلی فعال مرکزی مجلس تھی۔مجلس کے پریذیڈنٹ صاجزادہ مرزا بشیر الدین محمود احمد صاحب منتخب ہوئے۔اس مجلس کی غرض و غایت یہ تھی کہ نوجوانوں کو تبلیغ اسلام کے لئے تیار کرے۔یہ انجمن اگر چہ ۱۹۰۰ ء میں معرض وجود میں آئی مگر نمایاں رنگ میں اس کی سرگرمیاں ۱۹۰۶ ء میں جماعت کے سامنے آئیں جب کہ حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر الدین محمود احمد صاحب کے ہاتھوں میں اس کا احیاء عمل میں آیا اور شعید الاذہان " ہی کے نام سے اس کا ترجمان بھی جاری ہو گیا۔۱۹۰۶ء میں مجلس شعید الاذہان کے ابتدائی عہدیدار اور ممبر یہ تھے۔حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر الدین محمود احمد صاحب ( پریذیڈنٹ) منشی عبدالرحیم صاحب مالیر کوٹلی (سیکرٹری) چوہدری فتح محمد صاحب سیال (ممبر)۔چوہدری عبد السلام صاحب (محاسب انجمن) منشی برکت علی صاحب ( نائب سیکرٹری شیخ تیمور صاحبہ