تاریخ احمدیت (جلد 2)

by Other Authors

Page 162 of 687

تاریخ احمدیت (جلد 2) — Page 162

تاریخ احمدیت۔جلد ۲ نمبر ۲۴۷ ۱۵۹ جماعت کا فرقہ احمد یہ سے موسوم ہونا اس خط کا ترجمہ جو محترم سردار شرندیل خان صاحب گورنر آف خوست نے جناب ہے۔ایس۔ڈانلڈ صاحب بہادر ی۔آئی ای آفیسران سپیشل ڈیوٹی کرم کو مورخہ ۱۳۔ذی الحج (۱۸۔جون ۱۸۹۴ء) کو تحریر کیا۔سلام و آداب کے بعد واضح ہو کہ میں نے آپ کا وہ خط پڑھ لیا ہے جس میں آپ نے لکھا ہے۔کہ صاحبزادہ عبد اللطیف جان صاحب اور داد محمد خان صاحب حاکم چقمانی نے آپ کو بتایا ہے۔کہ مجھے پائیوار کوٹل کے علاقے سے پرے کی جانب حد بندی کے اختیارات حاصل نہیں۔لیکن پائیوار کوٹل کیما ٹائی سر کے مقامات تک ذخیرہ آپ کے ساتھ ساتھ سرحدی لائن کھینچے جانے سے مجھے اتفاق ہے۔بالخصوص جب کہ یہ لائن خرلاچی پوسٹ اور لار اشیاء کے دیہات کے مابین گزرے۔اس طرح مجھے اس امر پر بھی اعتراض نہیں۔اگر یہ خط خرلاچی دیسات کی زمینوں کو پٹھان گاؤں کی زمینوں سے الگ کر دے۔اور اس خط کی تعیین۔ہم دونوں۔موقع پر کریں۔میرے دوست صاحبزادہ عبد اللطیف جان صاحب اور داد محمد خان صاحب میرے پاس آئے تھے اور انہوں نے مجھے بتایا تھا کہ وہ میری ہدایت کے مطابق ڈانلڈ صاحب کے پاس گئے ہیں۔C نمبر ۳۹۳ نمبر ۱ ۵۵ سی مورخه ۲۸ جولائی ۱۸۹۴ء جناب جے۔ایس۔ڈانلڈ آفیسر آن سپیشل ریوٹی کرم کی طرف سے جناب کمشنر اور سپرنٹنڈنٹ صاحب بہادر پشاور ڈویژن کے نام ! ۲۵ تاریخ کی صبح کو صاحبزادہ عبد اللطیف جان صاحب جو سردار سرندل کے نمائندے اور ان کے دست راست ہیں میرے پاس تشریف لائے اور فرمایا کہ سردار صاحب اتنے بہت سے سوالات پر کچھ پریشان سے ہیں اور پھر جناب امیر صاحب والی کابل بھی نازک طبیعت کے مالک ہیں اور وہ سرحدی تعین کے بارے میں سوالات کی پیچیدگی اور ان کی ناروا تفصیل کو دیکھ کر الجھن محسوس کریں گے بالخصوص جب کہ ان سوالات کو انگریزی زبان سے الگ کر کے فارسی زبان کا جامہ پہنایا جائے چنانچہ میں نے صاحبزادہ صاحب کے مشورے کے بعد فقط تین سوالوں پر مشتمل ایک سوال نامہ تیار کیا جسے دیکھ کر صاحبزادہ بھی کچھ مطمئن ہوئے اور فرمایا۔کہ اب یہ سوال نامہ بہتر صورت میں ہے۔میں نے انہیں یہ سوال نامہ اور اس کے ساتھ ہی پہلا سوال نامہ (جس میں ۲۰۔سوال تھے) دونوں ان کی