تاریخ احمدیت (جلد 2)

by Other Authors

Page 160 of 687

تاریخ احمدیت (جلد 2) — Page 160

تاریخ احمدیت جلد ۲ ۱۵۷ جماعت کا فرقہ احمدیہ سے موسوم ہوتا ہو تا تھا۔سیاسی اثر و نفوذ کے لحاظ سے بھی ان کی شخصیت نمایاں تھی۔چنانچہ جب امیر کابل عبد الرحمن (۱۸۴۴ - ۱۹۰۱) کے عہد میں ہندوستان اور افغانستان کی سرحدوں کی تحسین کے لئے کمیشن مقرر ہوا تو برطانوی گورنمنٹ کی طرف سے سرمار ٹیمر ڈیورنڈ اور نواب سر صاحبزادہ عبد القیوم خاں آف ٹوپی ضلع پشاور ممبر مقرر ہوئے اور افغانستان کی طرف سے سردار سرندل خاں گور نرسمت جنوبی اور حضرت صاحبزادہ سید عبد اللطیف صاحب تجویز ہوئے۔کمیشن نے ۲۹۔جولائی ۱۸۹۴ء سے ۳۔دسمبر ۱۸۹۴ء تک چھ ماہ میں اپنا حد بندی کا کام ختم کر لیا اور وہ تاریخی ڈیورنڈ لائن قائم ہوئی جو آج بھی پاکستان اور افغانستان کی حد فاصل ہے۔کمیشن کے قیام سے دونوں ملکوں کی سرحدوں کا تعین تو لازماً ہونا ہی تھا۔اس کا تحریک احمدیت کو بھی روحانی فائدہ ہوا کہ کمیشن کے ارکان پارا چنار کے مقام پر دن کو حد بندی کا کام کرتے اور رات کو مختلف امور پر تبادلہ خیالات ہو تا۔حسن اتفاق سے کمیشن کے محر ر پشاور کے سید چن بادشاہ صاحب نے ایک مرتبہ دوران گفتگو میں سید نا حضرت مسیح موعود علیہ الصلواۃ والسلام کے دعوئی کا تذکرہ کیا جس سے حضرت سید عبد اللطیف صاحب بڑے متاثر ہوئے۔سید چن بادشاہ صاحب نے آپ کی خواہش دیکھی تو حضرت اقدس کی ایک تصنیف " آئینہ کمالات اسلام " پیش کی جس کے مطالعہ کے بعد حضرت صاجزادہ صاحب کو حضرت اقدس سے بے حد عقیدت و الفت پیدا ہو گئی۔انہوں نے حضور سے رابطہ قائم کرنے کے لئے اپنے بعض خاص شاگردوں مثلاً حضرت مولوی عبدالرحمن صاحب، حضرت مولوی عبد الستار صاحب اور حضرت مولوی عبد الجلیل صاحب کو حضرت اقدس کی خدمت میں بار بار بھیجنا شروع کیا۔آپ کے یہ مخلص شاگرد قادیان میں حضرت اقدس کی صحبت میں کچھ وقت گزارتے اور حضور کی تازہ تالیفات لے کر حضرت صاحبزادہ صاحب کے پاس آتے۔اس طرح حضور کے تازہ کو ائف کا بھی علم انہیں ہو تا رہتا تھا۔دسمبر ۱۹۰۰ء میں حضرت صاحبزادہ صاحب نے حضرت مولوی عبدالرحمن صاحب کو اپنے چند شاگردوں کے ساتھ حضرت اقدس کی خدمت میں بیعت کا خط دے کر بھجوایا۔نیز حضور کے لئے کچھ خلعتیں بھی تحفہ کے طور پر بھیجوا ئیں۔اله ڈیورنڈ لائن کے ریکارڈ میں حضرت صاحبزادہ عبد اللطیف صاحب کا ذکر No۔247 Translation of letter dated 13th Zilhij (18th June 1894) from