تاریخ احمدیت (جلد 2) — Page 159
تاریخ احمدیت جلد ۲ ۱۵۶ جماعت کا فرقہ احمد یہ سے موسوم ہونا حال میں مجھے حکم ٹھراتا ہے اور ہر ایک تنازع کا مجھ سے فیصلہ چاہتا ہے مگر جو شخص مجھے دل سے قبول نہیں کرتا اس میں تم نخوت اور خود پسندی اور خود اختیاری پاؤ گے پس جانو کہ وہ مجھ سے نہیں ہے کیوں کہ وہ میری باتوں کو جو مجھے خدا سے ملی ہیں عزت سے نہیں دیکھتا اس لئے آسمان پر اس کی عزت نہیں۔" اس ارشاد کے کچھ عرصہ بعد حضور کے ایک مرید خان محمد عجب خان صاحب تحصیل دار آن زیده نے حضور سے استفسار کیا کہ جو لوگ سلسلہ احمدیہ سے ناواقف ہیں ان کے پیچھے نماز ادا کی جاسکتی ہے یا نہیں ؟ حضور نے جواب دیا۔ناواقف امام سے پوچھ لو اگر وہ مصدق ہو تو نماز اس کے پیچھے پڑھی جاوے ورنہ نہیں۔اللہ تعالٰی ایک جماعت الگ بنانا چاہتا ہے اس لئے اس کے منشاء کی کیوں مخالفت کی جارے۔جن لوگوں سے وہ جدا کرنا چاہتا ہے بار بار ان میں گھسنا یہی تو اس کے منشاء کے مخالف ہے۔" حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے نماز سے متعلق اس ہدایت کے ساتھ ہی خبر دی کہ صبر کرو اور اپنی جماعت کے غیر کے پیچھے نماز نہ پڑھو۔بہتری اور نیکی اسی میں ہے اور اس میں تمہاری نصرت اور فتح عظیم ہے اور یہی اس جماعت کی ترقی کا موجب ہے۔دیکھو دنیا میں روٹھے ہوئے اور ایک دوسرے سے ناراض ہونے والے بھی اپنے دشمن کو چار دن منہ نہیں لگاتے اور تمہاری ناراضگی اور روٹھنا تو خدا کے لئے ہے تم ان میں اگر رلے ملے رہے تو خداتعالی جو خاص نظر تم پر رکھتا ہے وہ نہیں رکھے گا۔پاک جماعت جب الگ ہو تو پھر اس میں ترقی ہوتی ہے۔" چنانچہ سچ سچ ایسا ہی ہوا۔آپ کے اس فرمان کی تعمیل کرنے والے روزافزوں ترقی کرتے گئے اور کرتے جا رہے ہیں۔حضرت صاحبزادہ سید عبد اللطیف صاحب علاقہ خوست کی احمدیت سے وابستگی موضع سید گاہ علاقہ خوست (افغانستان) میں ایک باکمال بزرگ حضرت صاحبزادہ سید عبد اللطیف صاحب رہتے تھے۔حضرت صاجزادہ حضرت مخدوم شیخ ابو الحسن علی ہجویری گنج بخش رحمتہ اللہ علیہ (۱۰۰۹ ۱۰۷۲) کی اولاد میں سے تھے اور ملک کے مشہور مذہبی پیشوا، مقتدر عالم اور صاحب کشف و الہام تھے چنانچہ آپ کو خدا تعالٰی نے اوائل ہی میں یہ خبر دی کہ پنجاب میں مسیح موعود پیدا ہو گیا ہے۔آپ کے عقیدت مند افغانستان میں بڑی کثرت سے موجود تھے۔دربار شاہی میں بھی آپ ممتاز منصب رکھتے تھے۔دنیا دی وجاہت کا یہ عالم تھا کہ ملک کے چوٹی کے جاگیر داروں میں ان کا شمار