تاریخ احمدیت (جلد 2) — Page 143
تاریخ احمدیت جلد ۲ ۱۴۰ پیر مہر علی شاہ صاحب کو دعوت مقابلہ تو اس فتنہ کو مسلمانوں سے دور کر اور اس کے شر سے اسلام اور اہل اسلام کو بچالے جس طرح تو نے مسیلمہ کذاب اور اسود عنسی کو دنیا سے اٹھا کر مسلمانوں کو ان کے شرسے بچالیا۔اور اگر یہ تیری طرف سے ہے اور ہماری ہی عقلوں اور فہموں کا قصور ہے تو اے قادر ہمیں سمجھ عطا فرما تا ہم ہلاک نہ ہو جائیں اور اس کی تائید میں کوئی ایسے امور اور نشان ظاہر فرما کہ ہماری طبیعتیں قبول کر جائیں کہ یہ تیری طرف سے ہے۔اور جب یہ تمام دعا ہو چکے تو میں اور میری جماعت بلند آواز سے آمین کہیں اور پھر بعد اس کے میں دعا کروں گا اور اس وقت میرے ہاتھ میں وہ تمام الہامات ہوں گے جو ابھی لکھے گئے ہیں اور جو کسی قدر ذیل میں لکھے جائیں گے غرض یہی رسالہ (مرادار بعین نمبر ۲۔ناقل) مطبوعہ جس میں تمام یہ الہامات ہیں ہاتھ میں ہو گا اور دعا کا یہ مضمون ہو گا کہ یا الہی اگر یہ الہامات جو اس رسالہ میں درج ہیں اور جو اس وقت میرے ہاتھ میں ہے جن کی رو سے میں اپنے تئیں مسیح موعود اور مہدی سمجھتا ہوں اور حضرت مسیح کو فوت شدہ قرار دیتا ہوں تیرا کلام نہیں ہے اور میں تیرے نزدیک کاذب اور مفتری اور دجال ہوں جس نے امت میں فتنہ ڈالا ہے اور تیرا غضب میرے پر ہے تو میں تیری جناب میں تضرع سے دعا کرتا ہوں کہ آج کی تاریخ سے ایک سال کے اندر زندوں میں سے میرا نام کاٹ ڈال اور میرا تمام کاروبار درہم برہم کر دے اور دنیا میں سے میرا نشان مٹا ڈال۔اور اگر میں تیری طرف سے ہوں اور یہ الہامات جو اس وقت میرے ہاتھ میں ہیں تیری طرف سے ہیں اور میں تیرے فضل کا مورد ہوں تو اے قادر کریم اس آئندہ سال میں میری جماعت کو ایک فوق العادت ترقی دے اور فوق العادت برکات شامل حال فرما اور میری عمر میں برکت بخش اور آسمانی تائید نازل کر اور جب یہ دعا ہو چکے تو تمام مخالف جو حاضر ہوں آمین کہیں۔" معمور یہ صورت پیش کرتے ہوئے حضور نے پیشوایان قوم سے دردمندانہ اپیل کی کہ اے بزرگو اور قوم کے مشائخ اور علماء پھر میں آپ لوگوں کو اللہ تعالیٰ کی قسم دیتا ہوں کہ اس درخواست کو ضرور قبول فرما ئیں میں نے محض خدا کے لئے یہ تجویز نکالی ہے۔اور میرا خدا شاہد حال نے اس میں کوئی جو کچھ ا ہے کہ میں نے صرف اظہار حق کے لئے یہ تجویز پیش کی ہے۔اس میں کوئی تجور مباہلہ کی نہیں جو کچھ ہے وہ میری جان اور عزت پر ہے۔برائے خدا اس کو ضرور منظور فرما ئیں۔1 اس نوع کے جلسہ کے انعقاد کے لئے حضور نے پہلے ۱۵ اکتوبر ۱۹۰۰ء کی تاریخ مقرر کی جسے علماء کرام کی سہولت کے لئے ۲۵۔دسمبر ۱۹۰۰ء کر دی۔LA ان دونو صورتوں میں سے اگر اس زمانہ کے علماء کوئی قوم کو درد دل سے ایک دعوت صورت اختیار فرما لیتے تو دنیا ضرور خدا تعالیٰ کا ایک اور