تاریخ احمدیت (جلد 2)

by Other Authors

Page 114 of 687

تاریخ احمدیت (جلد 2) — Page 114

تاریخ احمدیت جلد ۲ چہار (بالسیف) کے التواء کا فتویٰ ☑ -f حواشی ملحها از مضمون حضرت خلیفتہ المسیح الثانی ایدہ اللہ تعالی مطبوعہ الفضل ۲۱ ستمبر ۱۹۲۳ء صفحہ ۳ الفضل ۱۸/ فروری ۱۹۵۹ء صفحہ ۶ کالم (خطبہ حضرت خلیفتہ المسیح الثانی ایدہ اللہ تعالی) ذکر حبیب" از حضرت مفتی محمد صادق صاحب ) صفحه ۳۴۴-۳۴۵ فرماتے ہیں ہمارا اصل کام اشاعت توحید الہی اور احیاء سفن سید المرسلین ہے سو ہم بلا روک ٹوک اس ملک میں کرتے ہیں پھر ہم سرکار انگریزی پر کس سبب سے جہاد کریں۔" (سوانح احمدی صفحه ای از مولوی محمد جعفر صاحب تھانیسری شائع کردہ صوفی پر جنگ کمپنی بہاؤ الدین) سوانح احمدی صفحه ۱۲۲ - " مجموعہ فتاوی (مولانا عبد الحی لکھنوی) مطبوعہ ۱۳۱۱ جلد دوم صفحہ ۲۳۵ پر آپ نے انگریزی حکومت کو دار الاسلام قرار دیا -A ہے۔جمال دین ابن عبداللہ شیخ عمر حفی مفتی مکہ معظمہ احمد بن ذہنی شافعی مفتی مکہ معظمہ اور حسین بن ابراہیم مالکی مفتی مکہ سے بھی فتاوی حاصل کئے گئے جن میں ہندوستان کے دار الاسلام ہونے کا اعلان کیا گیا تھا۔" (کتاب سید عطاء اللہ شاہ بخاری، مولفه شورش کا شمیری صفحه ۱۳۱) لکھتے ہیں " جب کہ شرط جہاد کی اس دیار میں معدوم ہوئی تو جہاد کا یہاں کرنا سب ہلاکت اور معصیت ہوگا۔" (فتاویٰ نذیریہ جلد ۲ صفحہ ۲۷۲ ۲۷۳ مطبوعہ دلی پر تنگ در کس طبع اول ایضا صفحہ ۳۷ (۳۹) کتاب "ہدایتہ السائل" اور دوسری متعدد کتابوں میں آپ نے لکھا کہ ہندوستان کے بلاد دار الاسلام ہیں نہ کہ دار الحرب اور غدر ۱۸۵۷ء میں جن مفسدوں نے انگریزی گورنمنٹ کا مقابلہ کیا تھا وہ فساد تھا نہ جہاد " (اشاعت السنہ جلد ۹ صفحه ایضاً " ترجمان وہابیہ صفحه ۱۵- ۳۰- ۸۴ مطبوعہ مطبع محمدی لاہور ۵۱۳۱۲) ملاحظہ ہو ان کا رسالہ " الاقتصاد فی مسائل الجهاد نیز اشاعت السنہ جلد نمبر ۱ صفحه ۲۸۷ پر لکھتے ہیں ” اہل اسلام کو ہندوستان کے لئے گورنمنٹ انگریزی کی مخالفت و بغاوت حرام ہے اور یہ جہاد نہیں ہے۔" اسباب بغاوت ہند (مطبوعہ ۱۸۵۸ء) میں لکھتے ہیں ” مسلمان ہماری گورنمنٹ و مستامن تھے۔کسی طرح گورنمنٹ کی عمل داری میں جہاد نہیں کر سکتے تھے (رسالہ مذکور صفحہ ۱۵ ۱۰۶ شائع کردہ اردو اکیڈیمی سندھ) فرماتے ہیں مسلمانوں کو یہاں ہندوستان میں جو مقبوضہ اہل مسیح ہے رہنا اور ان کا رعیت بنا درست ہے۔" فتویٰ صراط مستقیم از اشرف علی صاحب تھانوی بحواله رساله خالد اگست ۱۹۵۵ء صفحه ۲۰) ۱۳ آپ نے اپنے ترجمہ قرآن میں اولوالامر کا مصداق انگریزوں کو قرار دیا تھا۔ترجمہ پر ان کو ۱۹۰۲ء میں ایڈنبرا یونیورسٹی نے ایل ایل ڈی کی ڈگری پیش کی (داستان) تاریخ اردو مصنفہ حامد حسن قادری صفحه ۴۰۸ و "سید عطاء اللہ شاہ بخاری " مولفه شورش کا شمیری -If صفحه ۱۳۵) " ۱۳- دیکھئے ان کی کتاب " تحقیق الجمار" -10 ۱۵- لکھتے ہیں ”ہندوستان دار الاسلام ہے اسے دار الحرب کہتا ہرگز صحیح نہیں۔نصرت الابرار صفحه ۲۹ مطبوعہ مطبع صحافی لاہور ایکی من شیخ ۱۶ بحوالہ " حیات جاوید " جلد اول صفحه ۱۴۴ مولفہ مولانا الطاف حسین صاحب حالی) مطبوعہ ۱۹۰۳ء براہین احمدیہ حصہ سوئم صفحه ا تاہم صحیح بخاری شریف صفحه ۱۳۹۰ مطبوعہ مطبع احمدی میرٹھ با تمام شیخ ظفر علی و مولوی عبد الرحمن) 19 گورنمنٹ انگریزی اور جہاد صفحہ اتاس