تاریخ احمدیت (جلد 2) — Page 103
تاریخ احمدیت جلد ۲ جہاد بالسیف) کے التواء کا فتوئی جہاد بالسیف) کے التواء کا فتویٰ رسالہ گورنمنٹ انگریزی اور جہاد" کی تصنیف و اشاعت حضرت مسیح موعود علیہ السلام اور آپ کی جماعت پر ابتداء ہی سے انگریزی حکومت بڑی کڑی نگرانی رکھتی آرہی تھی۔خفیہ پولیس حضور کی نقل و حرکت کے متعلق رپورٹیں بھجواتی۔وہ مہمان جو حضور کو ملنے کے لئے آتا پولیس اس کا نام اور پتہ دریافت کرتی اور اس کے آنے کی غرض پوچھتی اور پوری طرح اس خیال میں رہتی کہ کسی منصوبہ کا پتہ لگتے ہی گرفتار کر لیا جائے۔بعض انگریزی حکام ان روساء کو (جن کی نسبت ان کو معلوم ہو تاکہ احمدیت کے ساتھ تعلق رکھتے ہیں) بوقت ملاقات اشارة کہہ دیتے کہ گورنمنٹ تو اس سلسلہ کو شبہ کی نگاہوں سے دیکھتی ہے آپ ان سے کیوں تعلق رکھتے ہیں۔حکومت کے احمدی ملازمین کو ان کے بالا افسر بہت دق کرتے تھے اور انگریزی حکام ان کے حقوق پامال کرنا عام بات سمجھتے تھے۔" اور اس کی تمام تر وجہ یہ تھی کہ انگریزی حکومت حضور اور حضور کی جماعت کو مشکوک نگاہ سے دیکھتی تھی۔یہ صورت حال ۱۹۰۷ء تک پوری شدت سے قائم رہی حتی کہ سرا سیٹس گورنر ہو کر آئے اور انہوں نے تمام حالات کا جائزہ لے کر اور حضور کی تعلیمات کا مطالعہ کرنے کے بعد گورنمنٹ کو یہ رپورٹ کی کہ اس جماعت کے ساتھ یہ سلوک ناروا ہے بلکہ بڑی ناشکر گزاری کی بات ہے کہ جس شخص نے امن قائم کیا اور جو امن پسند جماعت قائم کر رہا ہے اس پر پولیس چھوڑی گئی ہے یہ بڑی احسان فراموشی ہے اور میں اسے ہٹا کر چھوڑوں گا۔چنانچہ ان کی کوشش سے ۱۹۰۷ء میں احمدیوں کی نگرانی کا سلسلہ تو قریب قریب ختم ہو گیا مگر حضرت مسیح موعود علیہ السلام اپنی زندگی کے آخر تک حکومتی پالیسی سے مطمئن نہیں تھے جس کا ثبوت اس واقعہ سے ملتا ہے کہ ۸ مئی ۱۹۰۸ء کو حضرت مفتی محمد صادق صاحب نے حضور کی خدمت میں تحریری درخواست کی کہ ایک انگریز