تاریخ احمدیت (جلد 2) — Page 101
تاریخ احمدیت۔جلد ۲ ۹۸ اسلام کی پے در پے فتوحات حواشی ۲-۱- " تاریخ بشارت السند و پاکستان " صفحه ۲۱۸-۲۱۹ ( مولفه پادری خورشید عالم چرچ مشنری سوسائٹی گوجرہ شائع شد و ۱۹۴۹ء) دا حکم ۱۴/جنوری ۱۹۱۹ء صفحہ ۱ - ۲ و سلسلہ احمدیہ صفحہ ۹۲ -0 -Y -A -* -II بعض نئی اناجیل میں ان الفاظ کی بجائے یہ الفاظ رکھ دیئے گئے ہیں تو مجھ سے نیکی کی بابت کیوں پوچھتا ہے نیک تو ایک ہی ہے " لیکن انگریزی کی متی انجیل اور مرقس باب ۱۰ آیت ۸ نیز لو قاباب ۱۸ آیت ۱۹ میں ابھی تک وہی الفاظ ہیں کہ " تو مجھے کیوں نیک کہتا ہے نیک تو کوئی نہیں مگر ایک یعنی خدا۔" الحکم ۳۱ / مئی ۱۹۰۰ء صفحہ ۱۔۲ الحكم ۱۴ / فروری ۱۹۳۴ء صفحہ کے کالم نمبرا تا۳ الحکم ۱۳۱ مئی ۱۹۰۰ء صفحه ۳-۶ روایات صحابہ غیر مطبوعہ جلد ۸ صفحه ۲۱۱ ( روایت مرزا افضل بیگ صاحب) الحکم ۱۳۱ مئی ۱۹۰۰ء صفحه ۱-۳ الحکم ۳۱ / مئی ۱۹۰۰ء صفحه اتمام دالحکم ۱۴ / مئی ۱۹۰۸ء صفحہ ۷ کالم نمبرا الحکم ۳۱ / مئی ۱۹۰۰ء صفحه تماس حکم ۱۴ / مئی ۱۹۰۸ صفحہ سے کالم نمیرا الحکم ۱۴ / مئی ۱۹۰۸ء صفحہ سے کالم نمبرا » الحکم ۲۱ جنوری ۱۹۹۹ و تبلیغ رسالت جلد ۹ صفحه ۳-۱۱ ۱۳ بحوالہ ریویو آف ریلیجز اردو ۱۹۰۲ء صفحه ۳۵۳-۳۵۷ ۱۴ اس امر کے ثبوت میں پادری ای ایڈ منڈ صاحب (F ADMUND) کی وہ چھٹی پیش کرنا کافی ہو گا جو انہوں نے ۱۸۵۵ء میں دار الامارت کلکتہ سے ہندوستان کے تمام سرکاری ملازموں کے نام لکھی جس میں انہوں نے لکھا کہ تمام ہندوستان میں عمل داری بھی ایک ہو گئی ہے مذہب بھی ایک ہی ہونا چاہیے۔نیز اس خواہش کا اظہار کیا کہ موجودہ نسل یہ حقیقت سمجھ لے اور عیسائیت میں آجاتے (مکتوب کے لئے ملاحظہ ہو " اسباب بغاوت ہند صفحہ ۱۹۲ - ۲۰۲ از سرسید احمد خاں شائع کردہ اردو اکیڈی سندھ کراچی) -۵- اس قسم کے بعض ذاتی واقعات مولف "حیات طیبہ " اور مولف " مجددا عظم " نے اپنی کتابوں میں لکھے ہیں جو بڑے ایمان افروز ہیں۔ایک غیر از جماعت دوست سلطان حمد صاحب اکو شٹ پھوپھی زاد بھائی صوفی محمد رفیع صاحب ریٹائرڈ ڈی۔ایس۔پی سکھر کا حلفیہ بیان ہے کہ ۱۹۴۲ء کی بات ہے جب کہ میں دوران جنگ میں ہونا چھاؤنی میں ملازم تھا۔اس وقت فوجی افسران سے جو عموما کرتل میجر کپتان اور لیفٹیننٹ کے عہدے کے انگریز ہوتے تھے سرکاری کام کے علاوہ دوسری باتیں بھی ہو تیں تھیں۔ایک دن باتوں باتوں میں ایک لیفٹینٹ نے جس کا نام فسٹ تھا مجھ سے کہا کہ آؤ آج مذہبی بحث کریں۔میں نے کہا کہ بحث اس شرط پر کرتے ہیں کہ جو ہار جائے وہ دوسرے کا مذہب اختیار کرے۔سو اگر اسلام سچا ہو تو تم مسلمان ہو جانا۔پھر میں نے کہا کہ تم لوگوں میں سب سے بڑا مسئلہ تو صحیح کے ابن اللہ ہونے کا ہے مگر ابن اللہ ہونے کا زیادہ حقدار تو آدم ہیں۔جب میں نے اتنا کہا تو وہ فورا کہہ اٹھے کہ تم احمد یہ موومنٹ کے آدمی ہو۔میں نے کہا نہیں میں احمدی نہیں ہوں۔مگر اس نے میری ایک نہ مانی اور بار بار اس پر زور دیتا گیا کہ نہیں تم احمدی ہو۔پھر اس نے یہ کہا کہ میں انگلستان کا انگریز نہیں ہوں بلکہ امریکہ کا انگریز ہوں اور وہاں ہمیں یہ تعلیم دی گئی ہے کہ تم کسی احمدی سے بات نہ کرنا ورنہ وہ تم کو مسلمان بنالے گا۔سو اب میں تم سے بات نہیں کروں گا۔" الفضل ۱۹ فروری ۱۹۵۲ء صفحہ ۶ کالم نمبر) ۱۹ بحوالہ ریویو آف ریلیجر " اردو جلد نمبر صفحہ ۳۶ - ۳۶۳