تاریخ احمدیت (جلد 2) — Page 94
احمد بیت - جلد Q1 اسلام کی پے در پے فتوحات جائیں کہ وہ اپنی طہارت اور پاکیزگی کی نسبت کیا کہتے ہیں۔چنانچہ انجیل متی باب ۱۹ آیت ۷ امیں لکھا ہے کہ اس نے کہا " تو مجھے کیوں نیک کہتا ہے۔نیک تو کوئی نہیں مگر ایک یعنی خدا۔" پس جو نیک نہیں وہ معصوم کیسے ٹھر سکتا ہے۔مفتی صاحب نے زبر دست دلائل سے ثابت کیا کہ ذنب خطا جرم اور جناح سب الفاظ کا ترجمہ گناہ کیا جاتا ہے حالانکہ یہ محض غلط ہے۔نیز بتایا کہ قرآن کریم کے نزدیک ہمارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہی وہ نبی ہیں جن کی عصمت پر خدا تعالٰی نے صاف لفظوں میں زور دیا ہے۔اس تقریر سے بشپ صاحب مبہوت ہو کر رہ گئے اور مسلمان اسلام کی اس زبر دست فتح پر بہت خوش ہوئے اور کئی دن تک اس کا عام چرچا رہا کہ " مرزائی جیت گئے۔" بشپ صاحب نے اپنی ناکامی کی خفت مٹانے کے لئے اشتہار دیا کہ وہ ۲۵/ مئی کو " زندہ رسول " پر پھر لیکچر دیں گے اس اشتہار سے مسلمانوں میں بڑا جوش پھیل گیا اور انہوں نے مقابلہ کے لئے امرتسر سے مولوی ثناء اللہ صاحب کو بلایا۔مولوی ثناء اللہ صاحب حیات مسیح کے قائل ہو کر بھلا کیا جواب دیتے انہوں نے الٹا ساری توجہ مسلمانوں کو جلسہ میں شمولیت سے باز رکھنے پر مبذول کر دی مگر جب وہ اس میں بری طرح ناکام ہوئے تو خود انہوں نے اور انکے بلانے والے دردمند مسلمانوں نے فیصلہ کیا کہ اس کا جواب صرف مرزا صاحب کی جماعت دے سکتی ہے۔وہ بر ملا کہتے تھے کہ اب تو اسلام اور عیسائیت کی جنگ ہے جس میں " مرزائی بولے تو فتح ہو سکتی ہے ورنہ صاف شکست اٹھانا پڑے گی۔" ۲۴ مئی کو ظہر کی نماز کے بعد مفتی محمد صادق صاحب حضور کی خدمت میں حاضر ہوئے تو ان کی زبانی ان واقعات کی خبر ہوئی۔جلسہ میں اب صرف ۲۴ گھنٹے باقی تھے۔ان دنوں آپ بیماری کی وجہ سے نڈھال تھے مگر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی عزت و جلال کے لئے آپ کو خد اتعالیٰ نے جو دینی غیرت بخشی تھی اس نے اسلام و عیسائیت کی اس جنگ میں حصہ لینے کے لئے آپ کے اندر زبردست جوش پری کر دیا اور آپ نے اسی وقت قلم پکڑ لیا اور زندہ رسول کے متعلق ایک لاجواب مضمون لکھا جس میں آپ نے حضرت مسیح کی وفات کا نا قابل تردید دلائل سے ثبوت دینے کے بعد بتایا کہ زندہ نہی تنہا ہمارے آقا حضرت محمد الیتے ہیں جن کی تاثیرات و برکات کا ایک زندہ سلسلہ قیامت تک جاری ہے اور اس کا ایک نمونہ میں موجود ہوں کہ کوئی قوم اس بات میں میرا مقابلہ نہیں کر سکتی "خدا نے مجھے بھیجا ہے کہ تا میں اس بات کا ثبوت دوں کہ زندہ کتاب قرآن اور زندہ دین اسلام ہے اور زندہ رسول محمد مصطفے صلی اللہ علیہ وسلم ہے " یہ مضمون جو صرف ڈیڑھ دو گھنٹہ B میں روح القدس کی خاص تائید سے لکھا گیا تھا آپ کی ہدایت کے تحت راتوں رات چھاپ دیا گیا۔حضرت اقدس خود لالٹین لے کر بورڈنگ میں تشریف