تاریخ احمدیت (جلد 1)

by Other Authors

Page 56 of 725

تاریخ احمدیت (جلد 1) — Page 56

تاریخ احمدیت جلدا ۵۵ ولادت بچین اور تعلیم تھی۔بچوں کی شوخی، ہنسی مذاق اور چلبلا پن مشہور ہے اور یہ درسگاہ بھی ان باتوں سے خالی نہ تھی۔آپ کوہ و قار تھے اور متانت و سنجیدگی کی مجسم تصویر دوسرے بچے جو طفیلی رنگ میں استفادہ کرتے تھے اپنے اساتذہ کا مذاق اڑاتے مگر آپ ان کے ادب و احترام کو ملحوظ رکھتے۔وہ تعلیمی اوقات میں تفریح اور دل لگی کا سامان پیدا کرتے اور آپ اپنا سبق یاد کرنے میں مستغرق رہتے۔آپ کا معمول یہ تھا کہ اپنا سبق ہمیشہ خود پڑھتے اور دو یا تین دفعہ دہرا لینے کے بعد بالا خانہ میں تشریف لے جاتے اور وہاں تنہائی میں پوری یکسوئی سے یاد کرتے۔اگر کچھ بھول جاتا تو نیچے آکر اپنے استاد سے براہ راست پوچھتے اور پھر اوپر چلے جاتے۔آپ کی عادت مبارک میں بالخصوص یہ امر بھی داخل تھا کہ اگر کوئی بچہ اپنا سبق بھول جاتا تو آپ اسے یاد کرا دینے میں کبھی تامل نہ فرماتے۔ان دنوں میں عام طور پر کشتی کیڈی اور مگدر اور موگری اٹھانے کے کھیل مروج تھے اور بٹیر بازی اور مرغ بازی کی وبا عام تھی۔مگر آپ بالطبع ان سب فضولیات سے منظر اور قطعی طور پر بیزار تھے۔" تاہم اعتدال کے ساتھ اور مناسب حد تک آپ ورزش اور تفریح میں حصہ لیتے تھے۔آپ نے بچپن میں تیرنا سیکھا تھا اور کبھی کبھی قادیان کے کچے تالابوں میں تیرا کرتے تھے۔اسی طرح اوائل عمر میں گھوڑے کی سواری بھی سیکھی تھی اور اس فن میں اچھے ماہر تھے۔مگر آپ کی زیادہ ورزش پیدل چلنا تھا جو آخر عمر تک قائم رہی۔آپ کئی کئی میل تک میر کے لئے جایا کرتے تھے اور خوب تیز چلا کرتے تھے "۔یہ تو محض صحت کی درستی کی غرض سے تھا ورنہ ابتداء ہی سے آپ کی مرغوب خاطر اگر کوئی چیز تھی تو وہ مسجد اور قرآن شریف۔مسجد ہی میں عموماً ٹلتے رہتے۔اور ملنے کا اس قدر شوق تھا اور محو ہو کر اتنا ملتے کہ جس زمین پر ملتے وہ دب دب کر باقی زمین سے متمتیز ہو جاتی۔مولوی فضل الہی صاحب اور مولوی فضل احمد صاحب تو آخر ملازمت تک قادیان ہی میں مقیم رہے اور سلسلہ تعلیم نہیں جاری رہا۔مگر مولوی گل علی شاہ صاحب قادیان میں مختصر قیام کے بعد بٹالہ میں چلے آئے۔اس لئے حضور انور کو بھی کچھ عرصہ کے لئے بغرض تعلیم بٹالہ میں فروکش ہو نا پڑا۔بٹالہ میں حضور کے خاندان کی دکانیں اور ایک بہت بڑی حویلی تھی (جو بعد میں مقدمات کے نتیجہ میں فروخت ہو گئی حضور نے اسی بڑی حویلی میں قیام فرمایا۔ان دنوں آپ کے ہم مکتبوں میں مشہور اہل حدیث مولوی محمد حسین صاحب بٹالوی اور لالہ بھیم سین بھی شامل تھے جنہیں آپ کی خدا نما شخصیت کو قریب سے دیکھنے کا موقعہ ملا اور وہ ہزار جان سے آپ کے فریفتہ ہو گئے۔آپ کا ذکر الہی میں استغراق، شب بیداری امارت میں فقیرانہ شان نورانیت سے معمور چہرہ اور عشق رسالت میں ڈھلی ہوئی معصومیت ان کے قلب و نظر کا گم گشتہ فردوس تھے۔لالہ بھیم سین اور ان کے فرزند لالہ