تاریخ احمدیت (جلد 1) — Page 603
تاریخ احمدیت جلدا ۶۰۲ پنڈت لیکھرام کا عبرتناک انجام سکھوں کی طرف سے مخالفت اور اتمام حجت حضرت اقدس کی مخالفت میں ہندوستان کی تمام بڑی بڑی مذہبی قومیں متحد ہو چکی تھیں صرف سکھ علیحدہ نظر آتے تھے مگر وہ بھی "ست بچن " کی تصنیف سے بگڑ گئے اور عین اس وقت میدان مقابلہ میں آئے جب پنڈت لیکھرام کے قتل نے ملکی مطلع غبار آلود کر رکھا تھا۔اور وحشت و جنون کے گھٹا ٹوپ بادل چھار ہے تھے۔چنانچہ ایک صاحب سردار راجندر سنگھ نے "خبط قادیانی کتاب لکھی جس میں آنحضرت کی شان اقدس میں گستاخانہ حملے کئے اور بادا نانک کے مسلمان ہونے پر غم و غصہ کا اظہار کیا۔حضرت اقدس کو سکھ قوم سے حسن ظن تھا جو اس کتاب سے مجروح ہوا آپ کو ہر گز یہ خیال نہیں تھا کہ سکھ قوم میں ایسے لوگ بھی ہیں جو رسول خدا ﷺ سے متعلق بے باکی کرتے ہیں۔چنانچہ آپ نے ۱۸- اپریل ۱۸۹۷ء کو اس کے جواب میں مفصل اشتہار لکھا۔اور فرمایا۔کوئی برا مانے یا بھلا۔مگر میں سچ سچ کہتا ہوں کہ ان تمام نہ ہوں میں سچ پر قائم وہی مذہب ہے جس پر خدا کا ہاتھ ہے۔اور وہی مقبول دین ہے جس کی قبولیت کے نور ہر ایک زمانے میں ظاہر ہوتے ہیں یہ نہیں کہ پیچھے رہ گئے ہیں۔سو دیکھو میں گواہی دیتا ہوں کہ وہ روشن مذہب اسلام ہے جس کے ساتھ خدا کی تائید میں ہر وقت شامل ہیں کیا ہی بزرگ قدروہ رسول ہے جس سے ہمیشہ تازہ بتازہ روشنی پاتے ہیں اور کیا ہی برگزیدہ وہ نبی ہے۔جس کی محبت سے روح القدس ہمارے اندر سکونت کرتی ہے "۔حضور نے اس اشتہار میں سکھوں پر اتمام حجت کرتے ہوئے سردار راجندر سنگھ کو اسی آسمانی فیصلہ کی طرف بلایا جو آپ کے جوش ایمان اور منصب ماموریت کا ابتداء ہی سے طرہ امتیاز تھا۔یعنی آپ نے انہیں دعوت دی کہ آپ اگر بادا نانک کو مسلمان نہیں سمجھتے تو ایک مجلس عام میں اس مضمون کی قسم کھا دیں کہ در حقیقت بادا نانک صاحب دین اسلام سے بیزار تھے۔اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو برا سمجھتے تھے اور اگر دونوں باتیں خلاف واقعہ ہیں تو اے قادر کر تار مجھے ایک سال تک اس گستاخی کی سزا دے۔حضرت اقدس نے یہ وعدہ فرمایا کہ کسی اخبار میں یہ قسم شائع ہونے کے بعد ہم ان کے لئے پانچ سو روپیہ جمع کرا دیں گے جو ان کے ایک سال تک زندہ رہنے کی صورت میں انہیں فی الفور دے دیا جائے گا۔نیز یقین دلایا کہ اگر کسی انسان کے ہاتھ سے آپ کو تکلیف پہنچے تو وہ ہماری بددعا کا اثر ہرگز نہیں سمجھا جائے گا۔لیکن سردار راجندر سنگھ خدا کے شیر کی ایک ہی گرج سے ایسے دم بخود ہوئے کہ زندگی بھر انہوں نے اس طرف رخ کرنے کا نام نہیں لیا۔