تاریخ احمدیت (جلد 1)

by Other Authors

Page 592 of 725

تاریخ احمدیت (جلد 1) — Page 592

تاریخ احمدبیت - جلدا ۵۹۱ پنڈت لیکھرام کا عبرتناک انجام بھی آپہنچا۔اپریشن سے پہلے اس نے مرزا یعقوب بیگ صاحب کو کئی مرتبہ جو " مرزا صاحب" کہہ کے پکارا۔تو لیکھرام کانپ اٹھا کہ ہائے وہ مرزا صاحب یہاں ہسپتال بھی آپہنچے۔ڈاکٹر پیری نے زخم کیسے لیکن قریبا بارہ بجے جب وہ انتڑیاں وغیرہ صاف کر کے اور پیٹ سی کر ہا تھ دھونے لگاتو ٹانکے چھوٹ گئے اور ان کو دوبارہ سینا پڑا۔اس وقت پولیس والوں نے پنڈت لیکھرام کا بیان لینا چاہا جسے ڈاکٹر پیری نے روک دیا۔کہ اس میں جان کا خطرہ ہے۔اس طرح آخر شب ہو گئی اور بالاخر لیکھرام تڑپ تڑپ کر ۴ بجے صبح چل بسا۔اور جس طرح پیشگوئی میں قبل از وقت بتایا گیا تھا سامری کے بچھڑے کی طرح اس کی ار تھی جلائی گئی۔اور اس کی راکھ دریا میں بہادی گئی۔پنڈت دیو پر کاش کابیان مشہور آریہ سماجی پنڈت دیو پرکاش نے اپنی کتاب رافع الا دہام میں پنڈت لیکھرام کے واقعات قتل پر مفصل روشنی ڈالی ہے جس کے لفظ لفظ سے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی پیشگوئی کے ہر حصہ کے پورے ہونے کی شہادت ملتی ہے پنڈت صاحب لکھتے ہیں۔(۳)۔فروری یا ۱۴- فروری ۱۸۹۷ء کو ایک شخص لالہ ہنسراج جی کے پاس گیا پھر دوسرے روز دیا نند کالج ہال میں دکھائی دیا۔وہ پنڈت لیکھرام جی کو تلاش کر تا تھا۔پھر پنڈت جی کو ملا۔اس نے ظاہر کیا کہ وہ پہلے ہندو تھا۔عرصہ دو سال سے مسلمان ہو گیا تھا۔اب پھر اپنے اصل دھرم میں واپس آنا چاہتا ہے۔۔۔وہ پنڈت جی کے ساتھ سایہ کی طرح رہنے لگا۔کھانا بھی عام طور سے پنڈت جی کے گھر ہی کھایا کرتا تھا یہاں تک کہ پنڈت جی یکم مارچ کو ملتان تشریف لے گئے۔۵- مارچ کو عید کا دن تھا۔قاتل نے اس دن پنڈت جی کے گھر ریلوے سٹیشن آریہ پرتی ندھی سبھا کے دفتر ۱۸ یا ۱۹ چکر لگائے۔مگر پنڈت جی ۵- مارچ کو ملتان سے نہ آسکے۔اس سے اس ظالم کا ارادہ پنڈت جی کو عید کے دن شہید کرنا تھا۔4۔مارچ کو صبح ہی پنڈت جی کے مکان پر پہنچا اور بعد ازاں پرتی ندھی کے دفتر سے ہوتا ہوا ریلوے اسٹیشن پر گیا۔اس روز پنڈت جی ملتان سے تشریف لے آئے۔قاتل خلاف معمول کمبل اوڑھے ہوئے تھا اور بار بار تھوکتا تھا اور کانپ رہا تھا یہ حالت دیکھ کر پنڈت جی نے سوال کیا کہ کیا بخار ہے۔اس نے کہا ہاں۔ساتھ کچھ درد بھی ہے تب پنڈت جی اسے ڈاکٹر شند اس کے پاس لے گئے۔ڈاکٹر صاحب نے کہا اسے بخار وغیرہ تو کچھ نہیں لیکن خون میں کچھ جوش ہے ڈاکٹر صاحب نے پلستر لگانے کو کہا مگر اس مکار نے انکار کر دیا اور کہا کہ کوئی پینے کی دوار پیجئے۔تب پنڈت جی نے ڈاکٹر صاحب کی اجازت سے اسے شربت پلایا۔اس کے بعد پنڈت جی نے کچھ کپڑا خریدا اور گھر کو چلے آئے اور وہ ظالم بھی ساتھ ہی تھا۔جس مکان میں پنڈت جی کام کرتے تھے وہ گلی وچھو والی لاہور میں واقع ہے اور اس کا نقشہ حسب ذیل ہے زینہ چڑھتے ہی چھت پر اس کے ساتھ لگا ہوا ایک برآمدہ ہے۔اس میں پنڈت جی کام کیا کرتے تھے۔