تاریخ احمدیت (جلد 1) — Page 591
تاریخ احمدیت۔جلد ) ۵۹۰ پنڈت لیکھرام کا عبرتناک انجام شاتم رسول پنڈت لیکھرام کا قتل خانہ تلاشی اور آریوں کے خطرناک منصوبے ” استفتاء “ اور "سراج منیر کی تصنیف و اشاعت پنڈت لیکھرام کا قتل حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام نے شاتم رسول پینٹ لیکھرام کی عبرتناک موت سے متعلق جو مفصل پیشگوئی فروری ۱۸۹۳ء سے کر رکھی تھی اس کی چھ سالہ میعاد مقرر تھی جو اب انتقام کو پہنچ رہی تھی اور مارچ کے مہینہ میں عید الفطر کا دن بھی آرہا تھا جو اس واقعہ کی معین علامت بتائی گئی تھی اس لئے جوں جوں یہ دن نزدیک آرہا تھا پبلک کی بیتابی میں بھی اضافہ ہوتا جاتا تھا۔دوسری طرف پنڈت لیکھرام کو بھی دھڑکا لگا ہوا تھا اور اس نے دو تنخواہ دار سپاہی اپنی حفاظت کے لئے اپنے مکان واقعہ محلہ وچھو والی لاہور میں تعینات کر لئے تھے۔مگر یہ انتظامات خدا تعالیٰ کے عذاب سے کیونکر بچا سکتے تھے ؟۵- مارچ کو عید الفطر کا دن تھا۔جو بظا ہر سکون سے گزارا۔لیکن اگلے دن (۶- مارچ کو سات بجے شام لیکھرام مکان کی بالائی منزل پر بیٹھے پنڈت دیا نند کی سوانح عمری لکھ رہے تھے اور ایک شخص جو آریہ سماجیوں کے بیان کے مطابق شدھ ہونے کے لئے پاس بیٹھا تھا اور جس کے لئے آریہ سماج کے۔مارچ ۱۸۹۷ء کو شدھی کی پہلی تقریب منانے کا اہتمام بڑی دھوم دھام سے کرنے والی تھی) پاس بیٹھا تھا۔اس دوران میں پنڈت لیکھرام تصنیف کے کام سے تھک کر ذرا آرام کرنے کے لئے کھڑے ہوئے اور انگڑائی لی۔جس پر " شدھ ہونے والے شخص نے ان پر خنجر سے بھر پور دار کیا۔کہ انتڑیاں باہر نکل آئیں۔اور پنڈت لیکھرام کے منہ سے بیل کی طرح نهایت زور کی آواز نکلی جسے سن کر اس کی بیوی اور والدہ اوپر گئیں۔لوگ جمع ہو گئے۔لیکھرام کو لاہور کے میو ہسپتال میں پہنچادیا گیا۔شام کا وقت تھا۔ہسپتال میں اس وقت ڈاکٹر مرزا یعقوب بیگ صاحب (جو اس وقت میڈیکل کالج میں تعلیم پاتے تھے ڈیوٹی پر تھے۔مگر انگریز سرجن ڈاکٹر پیری موجود نہ تھا۔جب سرجن ڈاکٹر کے آنے میں تاخیر ہوئی تو پنڈٹ لیکھرام نے بار بار یہ کہنا شروع کیا۔"ہائے میری قسمت کوئی ڈاکٹر بھی نہیں جو ہر دا "۔یعنی ڈاکٹر بھی نہیں پہنچتا۔آخر بہت انتظار کے بعد قریباً نو بجے ڈاکٹر پیری et