تاریخ احمدیت (جلد 1) — Page 43
تاریخ احمدیت۔جلدا خاندانی حالات حاصل کر لیا کہ وہ لوگ بھی جو اس کے خیالات کے مخالف تھے اس کی عزت کرنے لگے۔اس فرقہ کا صدر مقام قادیان ہے جہاں انجمن احمدیہ نے ایک بہت بڑا سکول کھولا ہے اور چھاپہ خانہ بھی ہے جس کے ذریعہ سے اس فرقہ کے متعلق خبروں کا اعلان کیا جاتا ہے۔مرزا غلام احمد کا خلیفہ ایک مشہور حکیم مولوی نور الدین ہے جو چند سال مہاراجہ کشمیر کی ملازمت میں رہا ہے۔اس خاندان کے سالم موضع قادیان پر جو ایک بڑا موضع ہے حقوق مالکانہ ہیں اور نیز تین ملحقہ مواضعات پر بشرح پانچ فی صدی حقوق تعلقہ داری حاصل ہیں۔سید نا حضرت خلیفہ المسیح الثانی المصلح الموعود کا بیان ہے۔AP میں نے حضرت مسیح موعود سے ان کی (مہاراجہ رنجیت سنگھ صاحب ناقل) تعریف سنی ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے لکھا ہے کہ مہاراجہ صاحب نے ہی یہ گاؤں واپس کیا۔۔۔۔بے شک مہاراجہ صاحب نے یہ گاؤں واپس کیا لیکن ہمارے خاندان نے بھی ہمیشہ ان کے خاندان سے وفاداری کی۔جب انگریزوں سے لڑائیاں ہو ئیں تو بعض بڑے بڑے سکھ سرداروں نے روپے لے لے کر علاقے انگریزوں کے حوالہ کر دیئے اور یہی وجہ ہے کہ وہاں ان کی جاگیریں موجود ہیں۔یہاں سے پندرہ ہیں میل کے فاصلہ پر سکھوں کا ایک گاؤں بھاگو وال ہے وہاں سکھ سردار ہیں۔مگر وہ بھی انگریزوں سے مل گئے تھے تو اس وقت بڑے بڑے سکھ خاندانوں نے بھی انگریزوں کا ساتھ دیا مگر ہمارے دادا صاحب نے کہا کہ میں نے اس خاندان کا نمک کھایا ہے اس سے غداری نہیں کر سکتا۔کیا وجہ ہے کہ سکھ زمینداروں کی جاگیریں تو قائم ہیں مگر ہماری چھین لی گئی۔اسی غصہ میں انگریزوں نے ہماری جائیداد چھین لی تھی کہ ہمارے دادا صاحب نے سکھوں کے خلاف ان کا ساتھ نہ دیا تھا۔تاریخ سے یہ امر ثابت ہے کہ مہاراجہ صاحب نے سات گاؤں واپس کئے تھے پھر وہ کہاں گئے ؟ وہ اسی وجہ سے انگریزوں نے ضبط کرلئے کہ ہمارے دادا صاحب نے ان کا ساتھ نہ دیا تھا اور کہا تھا کہ ہم نے مہاراجہ صاحب کی نوکری کی ہے ان کے خاندان کی غداری نہیں کر سکتے بھاگووال کے ایک اسی پچاسی سالہ بوڑھے سکھ کپتان نے مجھے سنایا کہ میرے داد ا سناتے تھے کہ ان کو خود سکھ حکومت کے وزیر نے بلا کر کہا کہ انگریز طاقتور ہیں ان کے ساتھ صلح کر لو خواہ مخواہ اپنے آدمی مت مرواؤ۔مگر ہمارے داد ا صاحب نے مہاراجہ صاحب کے خاندان سے بے وفائی نہ کی اور اسی وجہ سے انگریزوں نے ہماری جائیداد ضبط کر لی بعد میں جو کچھ ملا مقدمات سے ملا۔مگر کیا ملا۔قادیان کی کچھ زمین دے دی گئی۔باقی بھینی۔ننگل اور کھارا کا مالکان اعلیٰ قرار دے دیا گیا مگر یہ ملکیت اعلیٰ سوائے کاغذ چاٹنے کے کیا ہے؟ یہ برائے نام ملکیت ہے جو اشک شوئی کے طور پر دی گئی اور اس کی وجہ یہی ہے کہ ہمارے داد ا صاحب نے غداری پسند نہ کی۔۔۔۔تاریخ