تاریخ احمدیت (جلد 1) — Page 585
تاریخ احمدیت جلدا ۵۸۴ اسلام کے زندہ مذہب ہونے کا چیلنج کتاب کے ضمیمہ میں حضور نے اسلام کے زندہ مذہب ہونے کا پر شوکت چیلنج اسلام اور محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زندہ ہونے پر ایک پر شوکت چیلنج دیتے ہوئے اعلان فرمایا : بالاخر میں پھر ہر ایک طالب حق کو یاد دلاتا ہوں کہ وہ دین حق کے نشان اور اسلام کی سچائی کے آسمانی گواہ جس سے ہمارے نابینا علماء بے خبر ہیں۔وہ مجھ کو عطا کئے گئے ہیں۔مجھے بھیجا گیا ہے۔تا میں ثابت کروں کہ ایک اسلام ہی ہے جو زندہ مذہب ہے اور وہ کرامات مجھے عطا کئے گئے ہیں جن کے مقابلہ سے تمام غیر مذاہب والے اور ہمارے اندرونی اندھے مخالف بھی عاجز ہیں۔میں ہر یک مخالف کو وکھلا سکتا ہوں کہ قرآن شریف اپنی تعلیموں اور اپنے علوم حکمیہ اور اپنے معارف دقیقہ اور بلاغت کاملہ کی رو سے معجزہ ہے۔موسیٰ کے معجزہ سے بڑھ کر اور عیسی کے معجزات سے صدہا درجہ زیادہ۔میں بار بار کہتا ہوں اور بلند آواز سے کہتا ہوں کہ قرآن اور رسول کریم ﷺ سے سچی محبت رکھنا اور کچی تابعداری اختیار کرنا انسان کو صاحب کرامات بنا دیتا ہے اور اسی کامل انسان پر علوم فیہ کے دروازے کھولے جاتے ہیں اور دنیا میں کسی مذہب والا روحانی برکات میں اس کا مقابلہ نہیں کر سکتا۔چنانچہ میں اس میں صاحب تجربہ ہوں۔میں دیکھ رہا ہوں کہ بجز اسلام تمام مذہب مردے۔ان کے خدا مردے اور خود وہ تمام پیرو مردے ہیں۔اور خدا تعالیٰ کے ساتھ زندہ تعلق ہو جانا بجز اسلام قبول کرنے کے ہرگز ممکن نہیں۔ہرگز ممکن نہیں۔اے نادانوا تمہیں مردہ پرستی میں کیا مزہ ہے ؟ اور مردار کھانے میں کیا لذت ؟!! آؤ میں تمہیں بتلاؤں کہ زندہ خدا کہاں ہے اور کس قوم کے ساتھ ہے۔وہ اسلام کے ساتھ ہے اسلام اس وقت موسیٰ کا طور ہے۔جہاں خدا بول رہا ہے وہ خدا جو نبیوں کے ساتھ ہمیشہ کلام کرتا تھا۔اور پھر چپ ہو گیا آج وہ ایک مسلمان کے دل میں کلام کر رہا ہے۔کیا تم میں سے کسی کو شوق نہیں کہ اس بات کو پر کھے۔پھر اگر حق کو پارے تو قبول کر لیوے۔تمہارے ہاتھ میں کیا ہے ؟ کیا ایک مردہ کفن میں لپیٹا ہوا۔پھر کیا ہے ؟ کیا ایک مشت خاک - کیا یہ مردہ خدا ہو سکتا ہے ؟ کیا یہ تمہیں کچھ جواب دے سکتا ہے؟ ذرا آتا ہاں العنت ہے تم پر اگر نہ آؤ اور اس سڑے گلے مردہ کا میرے خدا کے ساتھ مقابلہ نه کرد۔دیکھو میں تمہیں کہتا ہوں کہ چالیس دن نہیں گزریں گے کہ وہ بعض آسمانی نشانوں سے تمہیں شرمندہ کرے گا۔ناپاک ہے وہ دل جو بچے ارادہ سے نہیں آزماتے اور پھر انکار کرتے ہیں اور پلید ہیں وہ طبیعتیں جو شرارت کی طرف جاتی ہیں نہ طلب حق کی طرف۔