تاریخ احمدیت (جلد 1)

by Other Authors

Page 584 of 725

تاریخ احمدیت (جلد 1) — Page 584

تاریخ احمدیت جلدا ۲۷۵- سید نیاز علی صاحب بدایوں۔۲۷۶- ڈاکٹر عبدالشکور صاحب۔۔۔۔۔۲۷۷ شیخ حافظ الہ دین صاحب بی۔اے۔۲۷۸ میاں عبدالسبحان۔۔۲۷۹- میان شهامت خان۔۔۔۔۔۔۲۸۰ مولوی عبدالحلیم صاب دبار وار علاقه ۲۸۱- قاضی عبد اللہ صاحب ۲۸۲ - عبد الرحمن صاحب پنداری ۲۸۳ - برکت علی صاحب مرحوم ۲۸۴- شهاب الدین صاحب ۲۸۵- صاحب دین صاحب شمال ۲۸۷- مولوی غلام حسن مرحوم۔۔۔۔۲۸- نواب دین مدرس ۲۸۸- احمد دین صاحب۔۔۲۸۹- عبد الله صاحب قرآنی۔۔۔۲۹۰- کرم الہی صاحب کمپازیر۔۔۔۔۲۹۱ - سید محمد آفندی۔۔۔۔MIMI ۲۹۲۔عثمان عرب صاحب۔۔۔۲۹۳۔عبد الکریم صاحب مرحوم ۲۹۴- عبد الوہاب صاحب۔۔۔۔۔۔۔۵۸۳ اسلام کے زندہ مذہب ہونے کا چیلنج حال را سپور ۲۹۷- محمد العزیز صاحب عرف عزیز الدین۔۔۔۲۹۷- حافظ غلام محی الدین صاحب بھیر، حال چھاوریاں ۲۹۸- محمد اسمعیل صاحب نقشہ نویس لاہور بارون ۲۹۹ - احمد دین صاحب ۳۰۰ - محمد امین کتاب فروش بیتی کوٹ قاضی ۳۰۲ محمد رحیم الدین ۳۰۱۔مولوی محمود حسن خان صاحب د رس ملازم سنوری ۳۰۳۔شیخ حرمت علی صاحب کراری تصد غلام نبی ۳۰۴، میاں نور محمد صاحب غوث گڑھ۔11 1 نارنگ قادیان کا انکار یلوی چک کھاریاں جہلم پیالہ حبيب وال الہ آباد پنیالہ ۳۰۵- مستری اسلام احمد صاحب بھیرا گجرات ۳۰۶- حسینی خان صاحب الله آباد دینا نگر ۳۰۷- قاضی رضی الدین صاحب۔۔۔۔۔اکبر آباد دینا نگر ۳۰۔سعد اللہ خان صاحب۔۔۔۔الہ آباد ستاره مولوی عبد الحق صاحب ولد مولوی لاہور فضل حق صاحب د راس سامانه پیاله ۳۱۰- مولوی حبیب اللہ صاحب مرحوم ترکی محافظ دفتر یع لس۔جام۔۔طائف شریف ۳۸ - رجب علی صاحب پیشنز ساکن جھونی کهنه ضلع اللہ آباد چمارو بغدادی ۲۹۵۔میاں کریم بخش صاحب مرحوم و مغفور جهانپور ضلع لدميان ۳۱۲۔ڈاکٹر سید منصب علی صاحب شر ۳۳۔میاں کریم اللہ صاحب سارجنٹ پولس الہ آباد جام اس وقت مندرجہ بالا ۳۱۳ اصحاب میں سے حضرت بھائی عبد الرحمن صاحب قادیانی (۱۰۱) حضرت مولوی عبد المغنی صاحب علمی (۱۹) اور حضرت قاضی محمد عبد اللہ صاحب ربوہ (۲۸۱) خدا کے فضل سے زندہ موجود ہیں۔اور مبائعین میں شامل ہیں۔ان مخلصین کے علاوہ فہرست میں شامل چند اور اصحاب بھی گو بقید حیات ہیں۔مگر وہ مبایعین سے متعلق نہیں رہے۔(افسوس موجودہ ایڈیشن کے وقت ۳۱۳ اصحاب میں سے کوئی بزرگ زندہ نہیں۔اس مبارک گروہ کے آخری فرد حضرت قاضی صاحب تھے جن کا انتقال ۷ ۲۔فروری ۱۹۷۲ء کو ہوا) - انجام آتھم " میں حضرت اقدس نے علماء پر اتمام حجت کے لئے علماء کے نام عربی مکتوب تصیح وبلیغ عربی میں ایک فصل مکتوب بھی تحریر فرمایا جو آپ کے روحانی اور علمی کمالات کا مرقع اور آپ کی سچائی پر ابدی برہان ہے۔