تاریخ احمدیت (جلد 1) — Page 560
تاریخ احمدیت۔جلدا ۵۵۹ جلسہ مذاہب عالم " میں اسلام کی شاندار فتح حضرت مسیح موعود کی طرف سے اپنے سوامی شوگن چندر صاحب جلسہ کا اشتہار دینے پہلے قادیان بھی آئے تھے اور حضرت مضمون کے بالا ر ہنے کی قبل از وقت پیشگوئی اقدس سے عرض کیا کہ میں ایک مذہبی جلسہ کرنا چاہتا ہوں آپ بھی اپنے مذہب کی خوبیوں سے متعلق کچھ مضمون لکھیں تا اس جلسہ میں پڑھا جائے۔حضرت اقدس نے اپنی بیماری کے باعث عذر کیا لیکن انہوں نے اصرار کیا کہ آپ ضرور لکھیں چونکہ آپ یقین رکھتے تھے کہ آپ بغیر خدا کے بلائے بول نہیں سکتے۔اس لئے آپ نے جناب اٹھی میں دعا کی کہ وہ آپ کو ایسے مضمون کا القاء کرے جو اس مجمع کی تمام تقریروں پر غالب رہے آپ نے دعا کے بعد دیکھا کہ ایک قوت آپ کے اندر پھونک دی گئی اور آپ نے آسمانی قوت کی ایک زبر دست جنبش اپنے اندر محسوس کی۔آپ کو ان دنوں اسمال کا عارضہ تھا آپ نے ناسازی طبع کے باعث لیے لیٹے ہی قلم برداشتہ مضمون لکھنا شروع کیا۔آپ ایسی تیزی اور جلدی سے لکھتے تھے کہ نقل کرنے والوں کے لئے مشکل ہو گیا کہ اس قدر جلدی سے اس کی نقل کر سکیں۔جب حضور مضمون لکھ چکے تو خدا تعالی کی طرف سے الہام ہوا کہ مضمون بالا رہا۔یہ الٹی خوشخبری پاتے ہی آپ نے ۲۱- دسمبر ۱۸۹۶ء کو ایک اشتہار لکھا جس کا عنوان تھا۔سچائی کے طالبوں کے لئے ایک عظیم الشان خوشخبری"۔اس اشتہار میں آپ نے تحریر فرمایا۔جلسہ اعظم مذاہب جو لاہور ٹاؤن ہال میں ۲۶ - ۲۷- ۲۸- دسمبر ۱۸۹۶ء کو ہو گا اس میں اس عاجز کا ایک مضمون قرآن شریف کے کمالات کے بارے میں پڑھا جائے گا۔یہ وہ مضمون ہے۔جو انسانی طاقتوں سے برتر اور خدا کے نشانوں میں سے ایک نشان اور خاص اس کی تائید سے لکھا گیا ہے اس میں قرآن شریف کے وہ حقائق اور معارف درج ہیں جن سے آفتاب کی طرح روشن ہو جائے گا کہ در حقیقت یہ خدا کا کلام اور رب العالمین کی کتاب ہے۔اور جو شخص اس مضمون کو اول سے آخر تک پانچوں سوالوں کے جواب میں سنے گا۔میں یقین کرتا ہوں کہ ایک نیا ایمان اس میں پیدا ہو گا اور ایک نیا نور اس میں چمک اٹھے گا۔اور خدا تعالیٰ کے پاک کلام کی ایک جامع تفسیر اس کے ہاتھ آجائے گی۔میری تقریر انسانی فضولیوں سے پاک اور لاف و گزاف کے داغ سے منزہ ہے مجھے اس وقت محض بنی آدم کی ہمدردی نے اس اشتہار کے لکھنے کے لئے مجبور کیا ہے کہ مادہ قرآن شریف کے حسن و جمال کا مشاہدہ کریں اور دیکھیں کہ ہمارے مخالفوں کا کسی قدر ظلم ہے کہ وہ تاریکی سے محبت کرتے اور نور سے نفرت کرتے ہیں۔مجھے