تاریخ احمدیت (جلد 1) — Page 558
تاریخ احمدیت بلاد ۵۵۷ جلسہ مذاہب عالم " میں اسلام کی شاندار فتح سے ہو گا ضرور وہ اپنی نمایاں چمک دکھلائے گا۔اسی غرض سے اس جلسہ کی تجویز ہوئی ہے اور اس میں کوئی ایسی بات نہیں جو کسی مذہب کو اس پر اعتراض ہو۔سراسر بے تعصب اصول پر مبنی ہے۔لہذا یہ خاکسار ہر ایک بزرگ واعظ مذہب کی خدمت میں بانکسار عرض کرتا ہے کہ میرے اس ارادہ میں مجھ کو مدد دیں۔اور مہربانی فرما کر اپنے مذہب کے جوہر دکھلانے کے لئے تاریخ مقررہ پر تشریف لاویں۔میں اس بات کا یقین دلاتا ہوں کہ خلاف تہذیب اور بر خلاف شرائط مشتہرہ کے کوئی امر ظہور میں نہیں آئے گا۔اور صلح کاری اور محبت کے ساتھ یہ جلسہ ہو گا اور ہر ایک قوم کے بزرگ واعظ خوب جانتے ہیں کہ اپنے مذہب کی سچائی ظاہر کرنا ان پر فرض ہے پس جس حالت میں اس غرض کے لئے یہ جلسہ انعقاد پایا ہے کہ سچائیاں ظاہر ہوں تو خدا نے ان کو اس غرض کے ادا کرنے کا اب خوب موقع دیا ہے۔جو ہمیشہ انسان کے اختیار میں نہیں ہوتا میرا دل اس بات کو قبول نہیں کر سکتا کہ اگر ایک شخص سچا جوش اپنے مذہب کے لئے رکھتا ہو اور فی الواقع اس بات میں ہمدردی انسانوں کی دیکھتا ہو کہ ان کو اپنے مذہب کی طرف کھینچے تو پھر وہ ایسی نیک تقریب میں کہ جب کہ صدہا مہذب اور تعلیم یافتہ لوگ ایک عالم خاموشی میں بیٹھ کر اس کے مذہب کی خوبیاں سننے کے لئے تیار ہوں گے ایسے مبارک وقت کو وہ ہاتھ سے دیدے اور ذرا اس کو اپنے فرض کا خیال نہ آوے اس وقت میں کیو نکر کوئی عذر قبول کروں کیا میں قبول کر سکتا ہوں کہ جو شخص دوسرے کو ایک مسلک بیماری میں خیال کرتا ہے اور یقین رکھتا ہے کہ اس کی سلامتی میری دوا میں ہے اور بنی نوع کی ہمدردی کا دعوی بھی کرتا ہے وہ ایسے موقع میں جو غریب بیمار اس کو علاج کے لئے جتلاتے ہیں وہ پہلو تہی کرے میرا دل اس بات کے لئے تڑپ رہا ہے کہ یہ فیصلہ ہو جائے کہ کونسا مذ ہب در حقیقت سچائیوں اور صداقتوں سے بھرا ہوا ہے اور میرے پاس وہ الفاظ نہیں جن کے ذریعہ میں اپنے اس بچے جوش کو بیان کر سکوں۔میرا قوموں کے بزرگ واعظوں اور جلیل الشان حامیوں پر کوئی حکم نہیں ان کی خدمت میں سچائی ظاہر کرنے کے لئے ایک عاجزانہ التماس ہے۔میں اس وقت مسلمانوں کے معزز علماء کی خدمت میں ان کے خدا کی قسم دے کر بادب التماس کرتا ہوں کہ اگر وہ اپنا مذ ہب منجانب اللہ جانتے ہیں تو اس موقعہ پر اپنے اس نبی کی عزت کے لئے جس کے فداشدہ اپنے تئیں خیال کرتے ہیں اس جلسہ میں حاضر ہوں۔اسی طرح بخدمت پادری صاحبان نهایت ادب اور انکسار سے میری التماس ہے کہ اگر وہ اپنے مذہب کو فی الواقعہ سچا اور انسانوں کی نجات کا ذریعہ خیال کرتے ہیں تو اس موقعہ پر ایک نہایت اعلیٰ درجہ کا بزرگ ان میں سے اپنے مذہب کی خوبیاں سنانے کے لئے جلسہ میں تشریف لادیں۔میں نے جیسا کہ مسلمانوں کو قسم دی ہے ایسا ہی بزرگ پادری صاحبوں کو حضرت مسیح کی قسم دیتا ہوں اور ان کی محبت اور عزت اور بزرگی کا واسطہ ڈال کر خاکساری