تاریخ احمدیت (جلد 1)

by Other Authors

Page 552 of 725

تاریخ احمدیت (جلد 1) — Page 552

تاریخ احمدیت جلدا ۵۵۱ تعطیل جمعہ کی تحریک ڈسنے سے مرے۔مولوی عبد العزیز صاحب اور مولوی محمد صاحب لدھیانوی جو مشہور مکفرین میں سے تھے صرف تیرہ دن کے وقفے سے یکے بعد دیگرے اس جہان سے کوچ کر گئے اور ان کا پورا خاندان اجڑ گیا۔مولوی سعد اللہ صاحب تو مسلم اور مولوی رسل بابا صاحب طاعون کا شکار ہوئے۔مولوی غلام دستگیر صاحب قصوری نے اپنی کتاب "فتح رحمانی " صفحہ ۲۶-۲۷ میں آپ کے خلاف بد دعا کی تھی وہ کتاب کی اشاعت سے قبل ہی اجل کے ہاتھوں پکڑے گئے۔غرض ان مخالفانہ کاروائی جاری رکھنے والوں میں سے اکثر آپ کی زندگی میں ہی تباہ و برباد ہوئے۔چنانچہ ۱۹۰۶ ء تک ان مخالفین کی اکثریت کا خاتمہ ہو چکا تھا اور جو زندہ تھے۔وہ بھی کسی نہ کسی بلا میں گرفتار تھے۔آپ کی وفات کے بعد مولوی محمد حسین صاحب بٹالوی اور مولوی ثناء اللہ صاحب امرتسری سلسلہ احمدیہ کے عروج کا مشاہدہ کرنے کے لئے دیر تک زندہ رہے اور بالاخر پے در پے صدمات سہ کر فالج سے راہی ملک عدم ہوئے۔حضرت خواجہ غلام فرید صاحب چاچڑاں شریف کی تصدیق جیسا کہ اوپر ذکر ہو چکا ہے ان عالموں اور سجادہ نشینوں کے حلقے میں حضرت خواجہ غلام فرید صاحب وہ مرد مجاہد تھے جنہوں نے کھلے لفظوں سے آپ کی تصدیق فرمائی۔چنانچہ انہوں نے دعوت مباہلہ کا اشتہار ملتے ہی ۲۷- رجب ۱۳۱۴ھ (مطابق جنوری ۱۸۹۷ء) کو حضرت اقدس کے نام عربی میں عقیدت مندی کے جذبات سے مکتوب بھیجا کہ مباہلہ کا سوال ہی کیا ہے میں تو ابتدا ہی سے حضور کی تعظیم کرتا ہوں تا مجھے ثواب حاصل ہو۔اور کبھی میری زبان پر تعظیم و تکریم اور رعایت آداب کے سوا آپ کے حق میں کوئی کلمہ جاری نہیں ہوا۔حضرت اقدس نے یہ خط ضمیمہ " انجام آتھم " میں شائع فرما دیا۔اور آپ کی بڑی تعریف فرمائی کہ ہزاروں میں سے انہوں نے پر ہیز گاری اور تقویٰ شعاری کا نور دکھلایا۔آپ کا یہ کارنامہ کبھی فراموش نہیں ہو سکتا۔یہ خط چھپا تو پہلے مولوی غلام دستگیر صاحب قصوری اور پھر مولوی محمد حسین صاحب بٹالوی ان کے گاؤں پہنچے اور غزنوی خاندان کے بعض علماء نے انہیں مکذب بنانے کے لئے خطوط بھی بھیجے مگر آپ چونکہ بزرگ اور پاک باطن تھے اور خدا تعالٰی نے آپ پر صحیح کی صداقت پوری طرح منکشف کر کے آپ کا سینہ نور صداقت سے منور کر رکھا تھا اس لئے آپ نے کسی کی بھی پروا نہ کی اور ان خشک ملاؤں کو ایسے دندان شکن جواب دیئے کہ وہ ساکت ہو گئے اور خدا تعالی کے فضل سے آپ کا خاتمہ مصدق ہونے کی حالت میں ہوا۔دوسرے مصدق حضرت پیر صاحب العلم تھے حضرت پیر صاحب العلم " کی شہادت پر سندھ کے مشہور مشائخ میں س تھے اور جن پیر جو